ہفتہ, اپریل ۵, ۲۰۲۵
10.8 C
Srinagar

وقف ترمیمی بل 2025: ہندوستان میں وقف کی تاریخ

نئی دہلی:’’وقف‘‘ کی تعریف: کسی بھی شخص کی طرف سے کسی بھی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کو کسی بہبودی مقصد کے لیے مستقل طور پر عطیہ کئے جانے کو وقف جائیداد کہا جاتا ہے، جسے مسلم قانون نے مذہبی خیراتی ادارے کے طور پر تسلیم کیا ہے وقف کا تعارف:
ہندوستان میں وقف قانون سازی کا ارتقاء وقف املاک کو ریگولیٹ کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے ملک کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جن کی سماجی، مذہبی اور اقتصادی اہمیت ہے۔ 1954 کے وقف ایکٹ سے شروع ہونے والے وقف املاک کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور بہتر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے کئی برسوں ں میں کئی ترامیم کی گئی ہیں۔ حالیہ وقف ترمیمی بل- 2025 کا مقصد شفافیت کو بڑھانا، گورننس کے ڈھانچے کو بہتر بنانا اور وقف کے اثاثوں کو غلط استعمال سے بچانا ہے۔ ان قانونی اصلاحات نے وقف املاک کی انتظامیہ کی تشکیل کی ہے اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں سے اسے ہم آہنگ کیا ہے۔
مرکزی وزارت اقلیتی امور کی طرف سے جاری کردی ایک پریس ریلیز کے مطابق ہندوستان میں وقف املاک کا نظم و نسق اس وقت وقف ایکٹ 1995 کے تحت چلایا جاتا ہے، جسے مرکزی حکومت نے نافذ اور منظم کیا ہے۔ وقف انتظامیہ میں جو اہم ایڈمنسٹریٹیو ادارے شامل ہیں ان میں
❖ سینٹرل وقف کونسل (سی ڈبلیو سی) – حکومت اور ریاستی وقف بورڈ کو پالیسی پر مشورہ دیتی ہے لیکن وقف املاک کو براہ راست کنٹرول نہیں کرتی ہے۔
❖ ریاستی وقف بورڈ ( ایس ڈبلیو بی) -ہر ریاست میں وقف املاک کا انتظام اور حفاظت کرتا ہے۔
❖ وقف ٹربیونلز–خصوصی عدالتی ادارے جو وقف املاک سے متعلق تنازعات کو ہینڈل کرتے ہیں۔
یہ نظام بہتر انتظام اور مسائل کے تیز تر حل کو یقینی بناتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران، قانونی تبدیلیوں نے وقف انتظامیہ کو مزید شفاف، موثر اور جوابدہ بنا دیا ہے۔
ہندوستان میں وقف کی تاریخ کا ایک جائزہ
وقف انتظامیہ کو بہتر بنانے اور بدانتظامی کو روکنے کے لیے ہندوستان میں وقف املاک کو کئی قوانین کے ذریعے منظم کیا گیا ہے:
مسلم وقف توثیق ایکٹ، 1913:
مسلمانوں کو خاندانی فائدے کے لیے وقف بنانے کی اجازت دی گئی ، جو آخر کار خیراتی مقاصد کی طرف جاتا ہے۔
ہندوستان میں وقف املاک کی حکمرانی کو کئی قانون سازی کے ذریعے منظم کیا گیا ہے، جس کا مقصد انتظامیہ کو بہتر بنانا اور بدانتظامی کو روکنا ہے:
1. مسلمان وقف کی توثیق کرنے والا ایکٹ-1913: اس ایکٹ نے مسلمانوں کے اس حق کو واضح طور پر تسلیم کیا کہ وہ اپنے خاندان اور اولاد کے فائدے کے لیے وقف قائم کر سکتے ہیں، جس کا حتمی مقصد فلاحی ہوگا۔
وقف کے انتظام کو مزید موثراور شفاف بنانے کا مقصد :
• تاہم، اس ایکٹ کے نفاذ کے دوران یہ محسوس کیا گیا کہ یہ ایکٹ وقف کی انتظامیہ کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت نہیں ہوا۔
2. مسلمان وقف ایکٹ-1923: وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ان کے انتظام و انصرام میں مناسب حساب وکتاب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا۔
3. مسلمان وقف توثیق ایکٹ- 1930: خاندانی وقف کی قانونی حیثیت کو تقویت دیتے ہوئے 1913 کے ایکٹ کوسیع تر کیا گیا۔
4. وقف ایکٹ، 1954: پہلی بار ریاستی وقف بورڈز ( ایس ڈبلیو بیز) قائم کیے گئے، جو وقف املاک کو منظم انتظام، نگرانی اور تحفظ فراہم کرتے ہیں:
• وقف کو صرف آزادی کے بعد مضبوط کیا گیا ہے۔
• 1954 کے وقف ایکٹ نے وقف کی مرکزیت کی طرف ایک راستہ فراہم کیا۔
• سنٹرل وقف کونسل آف انڈیا- 1954 کے اس وقف ایکٹ کے تحت حکومت ہند نے 1964 میں ایک قانونی ادارہ قائم کیا تھا۔
• یہ مرکزی ادارہ مختلف ریاستی وقف بورڈز کے تحت کام کی نگرانی کرتا ہے جو وقف ایکٹ 1954 کے سیکشن 9(1) کے تحت قائم کیے گئے تھے۔
5. وقف ایکٹ-1954 (1959، 1964، 1969، اور 1984) میں ترامیم: ان ترامیم کا مقصد وقف املاک کے انتظام کو مزید بہتر بنانا تھا ۔
6. وقف ایکٹ-1995: اس جامع ایکٹ نے- 1954 کے ایکٹ اور اس کی ترامیم کو منسوخ کر دیا۔
• وقف ایکٹ-1995 ہندوستان میں وقف املاک (مذہبی اوقاف) کی انتظامیہ کو چلانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔
• یہ وقف کونسل، ریاستی وقف بورڈ اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اختیارات اور افعال اور متولی کے فرائض بھی فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان میں وقف املاک کی حکمرانی کو کئی قانون سازی کے ذریعے منظم کیا گیا ہے، جس کا مقصد انتظامیہ کو بہتر بنانا اور بدانتظامی کو روکنا ہے:
وقف کے انتظام کو مزید موثراور شفاف بنانے کا مقصد۔
• تاہم، ایکٹ کے نفاذ کے دوران یہ محسوس کیا گیا کہ یہ ایکٹ وقف کی انتظامیہ کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت نہیں ہوا۔
2. مسلمان وقف ایکٹ-1923: وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ان کے انتظام میں مناسب حساب وکتاب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا۔
3. مسلمان وقف توثیق ایکٹ- 1930: خاندانی وقف کی قانونی حیثیت کو تقویت دیتے ہوئے 1913 کے ایکٹ کوسیع تر کیا گیا۔
4. وقف ایکٹ، 1954: پہلی بار ریاستی وقف بورڈز ( ایس ڈبلیو بیز) قائم کیے گئے، جو وقف املاک کے منظم انتظام، نگرانی اور تحفظ کے لیے فراہم کرتے ہیں:
• وقف کو صرف آزادی کے بعد مضبوط کیا گیا ہے۔
• یہ وقف کونسل، ریاستی وقف بورڈ اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اختیارات اور افعال اور متولی کے فرائض بھی فراہم کرتا ہے۔
● یہ ایکٹ وقف ٹریبونل کے اختیارات اور پابندیوں کی بھی وضاحت کرتا ہے ، جو اپنے دائرہ اختیار میں دیوانی عدالت کے متبادل کے طور پر کام کرتا ہے۔
• وقف ٹربیونلز کو ایک دیوانی عدالت سمجھا جاتا ہے اوران کو کوڈ آف سیول پروسیجر- 1908 کے تحت سیول عدالت کے ذریعے استعمال کیے گئے تمام اختیارات اور افعال استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
• ٹریبونل کا فیصلہ حتمی اور فریقین پر پابند ہوگا۔ کسی بھی سیول عدالت کے تحت کوئی مقدمہ یا قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔ اس طرح وقف ٹربیونل کے فیصلے کسی بھی سیول عدالت سے بالاتر ہوتے ہیں۔
7. وقف (ترمیمی) ایکٹ- 2013 میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں جن میں شامل ہیں:
• تین رکنی وقف ٹربیونلز کی تشکیل، جس میں مسلم قانون اور فقہ کا علم رکھنے والا شخص، شامل ہیں۔
• ریاستی وقف بورڈ میں دو خواتین اراکین کی شمولیت
• وقف جائیدادوں کی فروخت اور حبہ کی ممانعت، ملکیت کی منتقلی کے امکانات کو محدود کرنا۔
● وقف املاک کے لیے لیز کی مدت میں 3 سال سے 30 سال تک توسیع، بہتر استعمال کی حوصلہ افزائی۔
8. وقف (ترمیمی) بل-2025 اور مسلم وقف (منسوخ) بل- 2024
• مجوزہ بل ایک جامع قانون سازی کی کوشش ہے جس کا مقصد وقف انتظامیہ کو جدید بنانا، قانونی چارہ جوئی کو کم کرنا اور وقف املاک کے موثر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔
• مجوزہ ترامیم کا مقصد وقف ایکٹ- 1995 کی خامیوں کو دورکرنا اور2013 (ترمیمی) ایکٹ کے ذریعے متعارف کرائی گئی بے ضابطگیوں کو دور کرنا ہے۔
اقلیتی امور کی وزارت کی اسکیمیں :
قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم (کیو ڈبلیو بی ٹی ایس) اور شہری وقف سمپتی وکاس یوجنا (ایس ڈبلیو ایس وی وائی) کو اقلیتی امور کی وزارت ( ایم او ایم اے) حکومت ہند کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں اسکیمیں ریاستی وقف بورڈ کے آٹومیشن اور جدید کاری کے لیے ہیں۔
• کیو ڈبلیو بی ٹی ایس کے تحت سرکاری گرانٹس ان ایڈ (جی آئی اے) ریاستی وقف بورڈز کوسی ڈبلیو سی کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے تاکہ وقف املاک کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ اور ڈیجیٹائز کرنے اور وقف بورڈ کے نظم و نسق کو بڑھانے کے لیے افرادی قوت کی تعیناتی کی جا سکے۔
• ایس ڈبلیو ایس وی وائی کے تحت وقف املاک پر تجارتی اعتبار سے قابل عمل پروجیکٹوں کو تیار کرنے کے لیے وقف بورڈز/ وقف اداروں کو بلا سود قرضوں کی مزید تقسیم کے لیےجی آئی اے سی ڈبلیو سی کے تحت فراہم کیا جاتا ہے۔
• کیو ڈبلیو بی ٹی ایس اور ایس ڈبلیو ایس وی وائی کے تحت بالترتیب 23.87 کروڑ روپے اور 7.16 کروڑ روپے 2019-20 سے 2023-24 تک خرچ کیے گئے۔
ہندوستان میں 1913 سے 2024 تک وقف قانون سازی کا ارتقاء معاشرے کے فائدے کے لیے وقف املاک کے تحفظ اور ان کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک موثر انتظامی نظام کے قیام کے عزم کو نمایاں کرتا ہے۔ ہر قانون سازی میں وقف، وقف کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے عصری چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وقف ترمیمی بل- 2025 شفافیت، جوابدہی اور شمولیت کو بڑھانے میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img