لوک سبھا میں ایک طویل اور گرما گرم بحث کے بعد وقف (ترمیمی) بل2025 منظور کر لیا گیا۔ حکومتی بیانیہ اسے اقلیتوں کے مفاد میں ایک انقلابی قدم قرار دے رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اور بعض مسلم تنظیمیں اسے ’اقلیت مخالف اوروقف املاک پر حکومتی تسلط کی کوشش‘ قرار دے رہی ہیں۔ اس تمام تر شور و غوغا کے بیچ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ قانون واقعی عام مسلمانوں کے لیے سودمند ثابت ہوگا یا ہمیشہ کی طرح مخصوص طبقات ہی اس سے مستفید ہوں گے؟وقف املاک کے انتظام اور ان کے غلط استعمال سے متعلق شکایات نئی نہیں۔ برسوں سے یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ قیمتی جائیدادیں عوامی فلاح کے بجائے مخصوص سیاستدانوں، بعض علمائے کرام اور سرمایہ داروں کے زیر قبضہ چلی گئی ہیں۔ ان املاک کا بنیادی مقصد تعلیم، صحت اور دیگر فلاحی منصوبوں کے ذریعے مسلمانوں کی بھلائی تھا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ وقف بورڈز کی کارکردگی عمومی طور پر غیر تسلی بخش رہی ہے، اور ان کی نگرانی میں نہ تو شفافیت دیکھنے میں آتی ہے اور نہ ہی جوابدہی کا کوئی مو¿ثر نظام موجود ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم ماتا ویشنو دیوی ٹرسٹ کی مثال لیں، تو وہ نہ صرف ایک معیاری یونیورسٹی چلا رہا ہے بلکہ عوامی فلاح کے لیے جدید اسپتال اور دیگر منصوبے بھی کامیابی سے چلا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وقف جائیدادوں کو اسی طرز پر ترقی کیوں نہیں دی جا سکتی؟ اگر دیگر مذہبی ٹرسٹ اپنی آمدنی کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں، تو وقف بورڈز کے لیے ایسا ممکن کیوں نہیں؟نئے قانون کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ وقف املاک کے انتظام میں شفافیت آئے گی اور ان کے فوائد عام مسلمانوں تک پہنچیں گے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب حکومت محض بیانات کی حد تک نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ وہ واقعی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے۔ ضروری ہے کہ ان جائیدادوں کی مکمل تفصیلات ڈیجیٹل کی جائیں تاکہ غیر قانونی قبضے اور بدانتظامی کا خاتمہ ہو۔ اس کے علاوہ، وقف بورڈز کو خودمختار بنایا جائے تاکہ وہ حکومتی دباو¿ سے آزاد ہو کر کام کر سکیں اور ان کے مالی معاملات کو شفاف رکھنے کے لیے ایک آزاد نگران ادارہ تشکیل دیا جائے۔
تاہم، مسلم کمیونٹی میں شدید خدشات بھی پائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقے اس بل کو وقف جائیدادوں کو ہڑپنے اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کی ایک منظم سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون وقف املاک پر حکومتی کنٹرول کو بڑھانے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے مخصوص تعلیمی، سماجی اور فلاحی ادارے مزید کمزور ہو جائیں گے۔ بعض مسلم رہنماو¿ں اور تنظیموں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ اقلیتوں کے حقوق اور آزادی پر ایک بڑا حملہ ہے۔مرکزی وزیر اقلیتی امور کا یہ کہنا کہ بھارت دنیا میں اقلیتوں کے لیے سب سے محفوظ ملک ہے، یقیناً خوش آئند ہے، مگر محض دعوے کافی نہیں۔ عملی اقدامات ہی وہ کسوٹی ہیں جن پر حکومتی نیت اور پالیسیوں کو پرکھا جا سکتا ہے۔ اگر وقف (ترمیمی) بل2025 واقعی مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، تو یہ ایک بڑی اصلاح ہوگی، لیکن اگر یہ محض ایک اور انتظامی ترمیم بن کر رہ گیا، تو یہ مسلمانوں کی مایوسی اور بےاعتمادی میں مزید اضافہ کرے گا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حقیقی اصلاحات کرے۔ وقف املاک کا صحیح استعمال صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب انہیں دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ اگر یہ اصلاحات محض کاغذی کارروائی نہ رہیں، تو یہ بل واقعی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، ورنہ یہ بھی محض ایک اور سیاسی تنازعے کا شکار ہو جائے گا۔