شوکت ساحل
یہ کسی فلم کی اسکرپٹ نہیں، نہ کوئی ناول کی سطر، بلکہ حقیقت ہے۔ایسی حقیقت جس میں پچیس سال کی جدائی کا درد بھی ہے، دعاؤں کا اثر بھی، قدرت اور قسمت کا کرشمہ بھی۔ یہ کہانی ہے عبدالحمزہ المعروف عبدالحمید کی ہے، جو اپنے خاندان سے بچھڑ کر تن ِ تنہا ایک اجنبی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ مگر وقت کے صفحات پلٹے، اور قسمت نے ایسا موڑ لیا کہ وہ برسوں بعد اپنے خاندان سے جا ملا۔
پچیس سال کی گمشدگی، ایک لمحے میں ختم
سرینگر کے سیول لائنز کے مولانا آزاد روڑ نذدیک ایکسچینج روڈ پر واقع ایک قدیم نجی دفتر کے دروازے پر، جہاں برسوں پہلے ایک ہوٹل کی رونق ہوا کرتی تھی، ایک 62 سالہ شخص عبدالحمید کے نام سے نگران کے طور پر کام کرتا تھا۔ روز صبح وہی معمول، وہی چہروں کا ہجوم، اور وہی بے رنگ زندگی۔ مگر اسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا اصل نام عبدالحمزہ ہے اور اس کی جڑیں جموں و کشمیر کے پیر پنچال کے سرسبز پہاڑوں کے دامن میں، پونچھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ساوجان میں دفن ہیں، جہاں اس کا خاندان آج بھی اس کا منتظر تھا۔
عبدالحمزہ کا تعلق پیر خاندان سے تھا۔ایک ایسا خاندان، جو عزت و احترام کا پیکر، مگر برسوں کی تکلیف اور انتظار کا شکار تھا۔ والد کا سایہ بچپن میں ہی سر سے اٹھ گیا تھا، اور جب عبدالحمزہ 2001 میں کام کی تلاش میں نکلا، تو پھر کبھی واپس نہ لوٹ سکا۔ گھر والوں نے پہلے انتظار کیا، پھر دعائیں مانگیں، اور پھر وقت کے ساتھ مجبور ہو کر اسے مردہ سمجھ لیا۔ ماں، جس نے زندگی بھر دروازے پر نظریں جمائے رکھیں، آخر کار اس امید سے دستبردار ہو چکی تھی کہ اس کا بیٹا کبھی واپس آئے گا۔
ایک پیغام، جو امید کی کرن بن گیا
رمضان کی مقدس ساعتیں تھیں، جب خدا نے عبدالحمزہ کے خاندان کی سن لی۔ پونچھ میں دارالعلوم کے لیے عطیات جمع کرنے والے ایک منتظم کے ذریعے ایک پیغام آیا:"عبدالحمزہ زندہ ہے!”
یہ ایک ایسا جملہ تھا جس نے پورے پیر خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔ گاؤں کے پرانے در و دیوار، جو برسوں کی خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے، یکدم جاگ اٹھے۔ ماں، جس کی پلکوں پر برسوں کے آنسو جم چکے تھے، اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بھائی بشیر احمد پیر کی آنکھوں میں حیرانی، خوشی اور بے یقینی کے ملے جلے جذبات تھے۔ کیا یہ واقعی ممکن تھا؟
سرینگر کی راہداریاں اور وہ لمحہ
بشیر احمد پیر نے وقت ضائع نہیں کیا۔ وہ سیدھا سرینگر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے بھر اس کے دل میں سوالات آتے رہے۔کیا وہ واقعی عبدالحمزہ ہوگا؟ کیا وہ اسے پہچانے گا؟ یا وقت نے اس کا چہرہ، اس کی پہچان، سب کچھ بدل دیا ہوگا؟
سرینگر کے اس نجی دفتر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ اندر قدم رکھا۔ ایک شخص، جو عبدالحمید کے نام سے جانا جاتا تھا، کونے میں بیٹھا ہوا تھا، جیسے وقت کی مار نے اسے تھکا دیا ہو۔ بشیر نے قدم آگے بڑھایا، نظریں اس پر جما دیں، اور پھر لرزتی آواز میں کہا:"عبدالحمزہ!”
عبدالحمید نے چونک کر سر اٹھایا۔ آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ جیسے وقت کا پہیہ الٹا گھوم گیا ہو، جیسے کوئی پرانا خواب پھر سے حقیقت میں بدل گیا ہو۔ وہ ایک لمحے کو خاموش کھڑا رہا، پھر اس کے ہونٹ لرزے:"بھائی!”
یہ لفظ تھا یا کوئی بجلی، جو دونوں کے جسموں میں سرایت کر گئی؟ بشیر لپک کر اس سے لپٹ گیا، عبدالحمزہ کی آنکھوں سے برسوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے، اور وہ بچوں کی طرح سسکنے لگا۔ پچیس سال کی جدائی، پچیس سال کی خاموشی، آج ایک پل میں ختم ہو چکی تھی۔
سرینگر کے اس نجی ہوٹل میں، جہاں اب دفاتر اور نیچے دکانیں قائم ہیں، وہاں کے کام کرنے والے افراد جن میں بعض صحافی بھی ہیں اور دکاندار بھی یہ خبر سن کر حیران رہ گئے۔ میں بھی عبد الحمزہ کو عبدلاحمید کے نام سے ہی جانتا ہوں ،میں بھی یہ منظر دیکھ کر حیران ہی رہ گیا ۔
برسوں سے جسے میری طرح سبھی عبدالحمید کے نام سے جانتے تھے، وہ درحقیقت عبدالحمزہ تھا۔ایک کھویا ہوا مسافر، جو اب اپنے اصل گھر لوٹ رہا تھا۔ دکانداروں اور ہوٹل کے نجی دفاتر میں کام کرنے والے افراد نے خوشی خوشی اسے رخصت کیا، اور عبدالحمید، جس کی آنکھوں میں برسوں کی جدائی کی کہانی تھی، سیاہ چشمے پہن کر پونچھ کے لیے روانہ ہوا۔جہاں اس کی ماں، عمر بھر کی دعاؤں کے ساتھ، دروازے پر اس کی راہ تک رہی تھا۔
ساوجان میں جشن، ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو
جب یہ خبر ساوجان، پونچھ پہنچی، تو پورے گاؤں میں ہلچل مچ گئی۔ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ماں کے لرزتے ہاتھ اٹھے، اور وہ بے اختیار اللہ کا شکر ادا کرنے لگی۔ محلے کی عورتیں دعائیں دینے لگیں، اور پورے پیر خاندان میں ایسا جشن منایا جانے لگا، جیسے برسوں کی ویرانی ختم ہوگئی ہو۔
عید تو ابھی کچھ دن دور تھی، مگر پیر خاندان کے لیے عید تو آج ہی آگئی تھی!.یہ کہانی نہیں، حقیقت ہے۔یہ کسی فلم کا منظر نہیں، بلکہ زندگی کا وہ معجزہ ہے، جو قسمت کی انگلی پکڑ کر سچائی میں بدل جاتا ہے۔