جمعہ, اپریل ۴, ۲۰۲۵
9.5 C
Srinagar

شادی ہالز منافع بخش کاروبار۔۔۔۔۔

سرینگر میں شادی ہالز کا قیام ایک سماجی ضرورت کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔ شہر خاص کی گنجان آبادی اور جگہ کی کمی کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر مہمانوں کے لیے خیمے لگاتے اور وازوان بنانے کے لیے شیڈز نصب کرتے تھے۔ اس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی تھی بلکہ عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان مسائل کے پیش نظر حکومت نے شادی ہالز کا تصور متعارف کروایا تاکہ لوگ سہولت کے ساتھ اپنی تقریبات منعقد کر سکیں۔تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ شادی ہالز کا مقصد بدلتا چلا گیا۔ پہلے یہ ہالز عوام کو رعایتی داموں پر فراہم کیے جاتے تھے، تاکہ غریب اور متوسط طبقہ بھی ان سہولیات سے مستفید ہو سکے۔ لیکن اب یہ ہالز ایک منافع بخش کاروبار کا روپ دھار چکے ہیں۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے حالیہ فیصلہ، جس کے تحت شادی ہالز کا کرایہ 10 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے فی دن کر دیا گیا ہے، نہایت افسوسناک ہے۔ یہ غیر منصفانہ اضافہ خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا ہے، وہاں شادی جیسی خوشیوں کو مزید مہنگا کرنا عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے شادی ہالز کا تصور کس لیے پیش کیا تھا؟ اگر مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا تھا تو آج یہ سہولت صرف امیروں کے لیے کیوں مخصوص ہو چکی ہے؟ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی ہالز کا کمرشلائزیشن کرنا ان کے اصل مقصد کی نفی ہے۔کرایوں میں اضافے کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ شادی کی تقریبات کے دوران رات دیر گئے تک ان شادی ہالز میں موسیقی کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ اونچی آواز میں بجنے والے اسپیکرز، بینڈ باجے اور ڈی جے سسٹمز کے شور سے قریبی رہائشی علاقوں کے مکینوں کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بچے اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جبکہ بزرگوں اور مریضوں کو نیند پوری کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، شادیوں میں پٹاخے پھوڑنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف شور و غل کا سبب بنتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ شادی ہالز کا انتظام اب محض منافع کمانے کا ذریعہ بن چکا ہے، جہاں عوامی مسائل کو یکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری ادارے بھی ان معاملات پر مناسب کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
ہم حکومت اور خاص طور پر معزز وزیر اعلیٰ جناب عمر عبداللہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس غیر منصفانہ اضافے کو فوراً واپس لیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ شادی ہالز کے کرایوں کو عوام کی مالی حیثیت کے مطابق طے کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ غریبوں اور متوسط طبقے کا خاص خیال رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنائے جو عوامی فلاح پر مبنی ہوں، نہ کہ سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے۔مزید برآں، شادی ہالز کے شور و غل اور موسیقی کے پروگراموں پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ رات گئے تقریبات کو محدود کیا جائے اور صوتی آلودگی کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔ پٹاخوں کے استعمال پر بھی معقول پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ عوام کو ذہنی سکون میسر آ سکے۔ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کی آواز سنے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے۔ شادی ہالز کا اصل مقصد عوامی سہولت ہے، اور اسے کسی بھی صورت میں تجارتی منافع کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہیے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img