جمعہ, اپریل ۴, ۲۰۲۵
9.5 C
Srinagar

اشتہارات کی منصفانہ تقسیم۔۔۔۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے صحافت کی آزادی کے تحفظ اور غیر امتیازی سرکاری اشتہارات کی تقسیم پر زور دیا، ایک خوش آئند قدم ہے۔ صحافت کا بنیادی اصول سچائی، غیر جانبداری اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ تاہم، جب اخبارات محض سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف حکومتی ترجمانی بن جاتا ہے، تو صحافت کا بنیادی مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بعض اخبارات کی سرکولیشن برائے نام ہوتی ہے۔ ایسے اخبارات کا وجود صحافت کے نام پر بدنما داغ ہے، جو صرف ذاتی فوائد کے لیے سرکاری اشتہارات کے حصول میں سرگرم رہتے ہیں۔ حکومت کا ان کے خلاف کارروائی کرنا یا ان کی فنڈنگ کو روکنا بالکل جائز ہے۔ لیکن اس کے برعکس، وہ مقامی میڈیا ہاو¿سز جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سمیت کم از کم 15 سے 20 یا اس سے زیادہ افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں، انہیں معقول اشتہارات دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف عوام کو معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ کئی خاندانوں کے معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے، مقامی صحافیوں کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی صحافیوں کو سر پر بٹھانا کسی حد تک جائز ہو سکتا ہے، لیکن یہ رویہ تب قابلِ قبول نہیں جب مقامی صحافیوں کو کم تر سمجھا جائے اور ان کی محنت کو نظرانداز کر دیا جائے۔ مقامی صحافی ہی وہ آواز ہیں جو زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وہ عوامی مسائل کو براہِ راست اجاگر کرتے ہیں اور حقیقی معنوں میں عوام کے ترجمان ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات کو تسلیم کرنا اور انہیں مناسب مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ ’جو اخبار صرف پریس نوٹس اور میری تصویر چھاپے، وہ اخبار نہیں بلکہ ایک ترجمان ہے‘، ایک حقیقت پسندانہ بیان ہے۔ صحافت کو آزاد، بے خوف اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تنقید برداشت کرنا اور مثبت اصلاحات کے لیے اقدامات اٹھانا جمہوریت کی بنیادی روح ہے۔
صحافیوں کو درپیش مشکلات میں ایک بڑی مشکل مالی عدم استحکام ہے۔ اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اشتہارات کی پالیسی میں شفافیت لائے اور ان میڈیا ہاو¿سز کی سرپرستی کرے جو صحافت کے اصولوں پر کاربند ہیں۔ ساتھ ہی، ایسے ادارے جو محض ذاتی مفادات کے تحت صحافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بالآخر، صحافت کی بقاءاسی میں ہے کہ اس کا دامن سچائی، غیر جانبداری اور عوامی خدمت سے وابستہ رہے۔ حکومت، صحافی برادری اور عوام، سب کو مل کر صحافت کی اس روح کو زندہ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img