جموں: عوامی اتحاد پارٹی کے لیڈر اور رکن اسمبلی شیخ خورشید احمد نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کے مرکزی ہال کے اندر گزشتہ ماہ بارہمولہ اور کٹھوعہ میں ہونے والی اموات پر احتجاج کیا۔ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جوں ہی اپنا خطاب شروع کیا تو خورشید احمد نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے بارہمولہ اور کٹھوعہ میں گذشتہ ماہ جن دو افراد کی موت واقع ہوئی تھی، کے اہل خانہ کے لئے انصاف کا مطالبہ کیاانہوں نے کہا کہ تاہم جب انہوں نے کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو مارشلز نے انہیں ایوان سے باہر نکال دیا۔
موصوف رکن اسمبلی نے باہر نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ہمارا مطالبہ ہے کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو بحال کیا جائے کیونکہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے’۔انہوں نے کہا: ‘بی جے پی کا کیا منشور ہے لیکن ہم ان دفعات کی بحالی کے لئے مطالبہ کرتے رہیں گے’۔ان کا کہنا تھا: ‘میرا احتجاج خاص کر اس بات کو لے کر ہے کہ مکھن دین اور وسیم احمد کی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی تحقیقات نہیں کی گئی ہے اور اہلخانہ کو ابھی تک انصاف نہیں ملا ہے’۔
خورشید احمد نے کہا:’کولگام دیوسر کے تین شہری گذشتہ کئی دنوں سے لاپتہ ہیں لیکن پولیس کچھ کہہ نہیں رہی ہے ان کے اہلخانہ پریشان ہیں ہم چاہتے ہیں ان کو تلاش کیا جانا چاہئے’انہوں نے لیفٹیںنت گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ مکھن دین اور وسیم احمد کی ہلاکتوں کے بارے میں عدالتی انکوائری کرائیں۔





