جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی چند آزاد ممبران نے لیفٹیننٹ گورنر کے خطبے کا واک آو¿ٹ کرتے ہوئے حالیہ ہلاکتوں پر احتجاج کیا۔ جہاں تک جموں و کشمیر کی سیاست کا تعلق ہے، یہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ اب ممبرانِ اسمبلی صرف اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والے تعمیراتی کاموں پر نظر رکھ سکتے ہیں اور اسمبلی میں مرکزی سرکار کو اس حوالے سے مفید مشورے دے سکتے ہیں اور مطالبہ کر سکتے ہیں۔جہاں تک یونین ٹیریٹری (یو ٹی) کا تعلق ہے، اس میں زیادہ تر اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہوتے ہیں۔ان کے دائرہ اختیار میں نہ صرف اہم سرکاری محکمے آتے ہیں بلکہ تمام آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران بھی انہی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ ایک ریاست اور مرکزی زیرِ انتظام علاقے میں ایک بہت بڑا فرق ہے، جسے ہر ایم ایل اے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔گزشتہ دہائیوں کے دوران، یہاں کے منتخب ممبران کو جو عادت ہو چکی ہے، انہیں وہ تب تک بھول جانی چاہیے جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ نہیں مل جاتا۔ ویسے بھی، مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ ضرور دے گی، لیکن وقت آنے پر۔ تاہم، اس میں کچھ شرائط رکھی جا رہی ہیں، جن کے تحت جو قوانین لاگو کیے گئے ہیں یا جن میں ترمیم کی گئی ہے، ان میں منتخب اسمبلی کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکے گی۔
جہاں تک نو منتخب اسمبلی ممبران کا تعلق ہے، ان کے پاس وہ تمام اختیارات نہیں ہیں جو پہلے کے اسمبلی ممبران کو حاصل تھے، کیونکہ اس وقت جموں و کشمیر ایک ریاست تھی، یونین ٹیریٹری نہیں۔ موجودہ اسمبلی کا اختیار یہ ہے کہ وہ کسی بھی اقدام سے پہلے مرکزی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری کی محتاج ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے تمام اہم سرکاری محکمے ایل جی کے تحت ہیں، اور تمام آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران بھی انہی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔جہاں تک جموں و کشمیر کے موجودہ سیاستدانوں کا تعلق ہے، وہ صرف اپنی نوکری کر رہے ہیں۔ انہیں عوامی مسائل اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے باضابطہ تنخواہیں ملتی ہیں۔ وہ لیڈر ہرگز نہیں بن سکتے، نہ ہی انہیں لیڈر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی بھی ملک، معاشرے یا قوم میں وہی لوگ لیڈر بنتے ہیں جو قوموں کو بیدار اور باہمت بنانے کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دیتے ہیں۔ وہ اپنی نیندیں حرام کرکے قوم کو بیدار کرتے ہیں اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔
جہاں تک موجودہ دور کے سیاستدانوں کا تعلق ہے، وہ عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور انہیں غیرت اور وقار کی بات نہیں کرنی چاہیے۔ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے بعد جموں و کشمیر میں کوئی حقیقی لیڈر پیدا نہیں ہوا، نہ ہی کسی میں اتنی جرات اور عوامی حمایت ہے۔جہاں تک جموں و کشمیر اسمبلی کا تعلق ہے، اس کے منتخب ممبران کا کام صرف اور صرف عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ پانی، بجلی اور دیگر ٹیکسوں نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے۔ تاہم، اسمبلی ممبران یا وزراءکو ان مسائل سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔اگر ان منتخب ممبران کو سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کا امانت دار بھی بننا ہے، تو انہیں تین بار کے سابق وزیرِاعظم گلزاری لال نندا سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جو کرائے کے مکان میں رہتے تھے اور اپنی آخری زندگی سادگی سے بسر کر رہے تھے۔ ان کے پاس نہ زمین و جائیداد تھی اور نہ ہی وہ عیاشی کی زندگی گزار رہے تھے۔لہٰذا، جموں و کشمیر اسمبلی کے موجودہ ممبران کو لیڈر بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، بلکہ تنخواہ یافتہ نمائندے بن کر عوامی مسائل کے حل کے لیے مرکزی حکومت سے رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ میڈیا میں مقبول ہونے کے لیے لڑائی جھگڑے کا راستہ اپنانا چاہیے۔





