اتوار, اگست ۳۱, ۲۰۲۵
24.2 C
Srinagar

نومبر تعلیمی سیشن کی بحالی۔۔۔۔۔۔۔

جموں وکشمیر کی نومنتخب عوامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے برس سے نومبر تعلیمی سیشن کو دوبارہ بحال کیا جائے گا اور اس حوالے سے اتفاق کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا تھا کہ اگرچہ تعلیمی سیشن کی تبدیلی کو اس برس نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم تمام متعلقین، بورڈ سے مشاورت کے ساتھ یہ اگلے سال نافذ العمل ہوگا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ سال 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے اسکولی تعلیم کے لیے یکساں تعلیمی کلینڈر متعارف کیا تھا۔ جس کے مطابق چند برسوں سے سالانہ امتحانات نومبر، دسمبر کیبجائے مارچ میں لئے جارہے ہیں۔ انتظامیہ نے نومبر سے مارچ کے سیشن کو یہ کہتے ہوئے نافذ کیا کہ یہ اقدام یکساں تعلیمی کلینڈر کو یقینی بنائے گا اور اس عمل سے جموں وکشمیر کا تعلیمی سیشن ، قومی تعلیمی کلینڈر کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ چند برس قبل مارچ سیشن میں امتحان لیے جانے کے فیصلے کو عام لوگوں کی جانب سے پذیرائی نہیں ملی اور نومبر کے سیشن میں جانے میں آواز یں بلند ہورہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نومبر کا تعلیمی سیشن اگلے برس بحال کیا جائے گا۔ہم اسے مرحلہ وار بنیاد پر بحال نہیں کریں گے۔ بلکہ سبھی کلاسوں کے لیے بیک وقت فیصلہ کریں گے۔
جموں وکشمیر کے موسمی حالات ملک کی دیگر ریاستوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کافی مختلف ہیں ۔ماضی کے تعلیمی سیشن کی وجہ سے طلبہ کو سرمائی تعطیلات کے دوران نصاب مکمل کرنے میں کافی موقع ملتا تھا جبکہ موجودہ تعلیمی سیشن میں سرمائی تعطیلات کے بعد امتحانات منعقد ہوتے ہیں اور مئی سے نئے تعلیمی سیشن کے لئے کلاسز کا آغاز ہوتا ہے ۔اس عمل سے جموں وکشمیر کے تعلیمی نظام میں کسی طرح کی بہتری نہیں آئے بلکہ اس عمل سے یہاں بے چینی اور تحفظات ہی پیدا ہوئے ۔جبکہ اس عمل سے طلبہ کو نہ تو کوئی راحت ملی اور نہ ہی براہ راست فائدہ ملا ۔اس عمل سے وقت کا استعمال بھی نہیں ہو پارہا ہے ۔ایسے میں جموں وکشمیر میں تمام چیلنجز کو مد نظر رکھ کر ایسی پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے ،جس کا فائدہ نظام اور طلبہ (دونوں ) کو ہو ۔تعلیمی نظام کو جہاں نئی قومی تعلیمی پالیسی سے بہتر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،وہیں سب کے لئے تعلیم کے آئین حقوق کو بحال کر نے کے لئے زمینی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔نجی تعلیمی اداروں کی من مانیوں پر روک لگانے کی ضرورت ہے ،جسکی وجہ سے والدین ذہنی کوفت میں مبتلاءہوچکے ہیں ۔محکمہ تعلیم اورفی فیکزیشن کمیٹی کی جانب سے لئے جانے والے فیصلہ جات کو بھی زمینی سطح پر عملانے کی ضرورت ہے اور نجی تعلیمی اداروں کو جوابدہ بنانا لازمی ہے ۔
بہر کیف حکومت کو نومبر کے تعلیمی سیشن کی بحالی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل سبھی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے ۔تاکہ کل اگر سرکار تبدیل ہوتی ہے ۔تعلیمی سیشن کا کلینڈر پھر سے تبدیل ہو ۔ویسے بھی تعلیم اورصحت کے شعبہ جات کو سیاست سے پاک رکھنا چاہیے ۔اگر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں نومبر کا تعلیمی سیشن دوبارہ بحال کیا جائے گا ۔اس ضمن میں کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرس کو اعتماد میں لیا جائے ۔تعلیمی سیشن کے ساتھ بار بار کی مداخلت تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے ۔ایسے میں ضروری ہے کہ نو مبر سیشن شروع کرنے سے قبل تمام امتحانات ماہ اپریل تک منعقد کئے جائیں اور مارچ کے آخر تک امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا جائے ۔تاکہ سرمائی تعطیلات ختم ہوتے ہی نئے تعلیمی سیشن کے لئے کلاسز کا آغاز بغیر کسی طوالت کے ہوسکے ۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img