نیوزڈیسک
سرینگر: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( مارکسزم)”سی پی آئی (ایم ) نے جموں وکشمیر میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے اپنا انتخابی منشور جاری کیا ۔ایک بیان کے مطابق ”سی پی آئی اےم،ہمارا منشور اور مطالبات“ کے عنوان سے جاری منشور میں مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر ریاست کی تاریخی حیثیت کو بحال کیا جائے،جموں و کشمیر کو 5 اگست 2019 سے پہلے حاصل آئینی اورجمہوری حقوقواپس کئے جائیں۔
مزید مطالبات
سیاسی بنیادوں پر گرفتار کئے گئے افراد کو رہا کےا جائے۔ اوراندھا دھند گرفتارےوں کا سلسلہ بند کےا جائے۔کالے قوانین جےسے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے )اور دےگرسخت گےر قوانین کو واپس لےا جائے۔ تمام جمہوری اور آئینی حقوق کو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔ہماری زمین پر ہمارا حق -کشمیر کی منفرد شناخت کی حفاظت کی جائے۔لل دید اور نندہ ریشی کی سر زمین کو نفرت کی آگ میں دھکیلنا بند کیا جائے۔ ریاست کی زمین پر کارپوریٹ یا غیر ریاستی باشندوں کا حق جتلانا – نا منظور – نا منظور۔ڈکٹیٹر شپ نہیں، جمہوریت کی مکمل بحالی چاہئے۔پریس اور میڈیا پر لگی تمام پابندیوں کو ہٹایا جائے۔34نکات پر مشتمل انتخابی منشور میں مطالبہ کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی بے روز گاری سے نمٹنے کےلئے موثر اور ٹھوس اقدامات اُٹھا ئے جائےں۔ کام گار مخالف نئے لیبر کوڈ کو واپس لے کر سابقہ قوانین کو لاگو کیا جائے۔تمام اسکیم ور کرس کو کم از کم اجرت کے دائرے میں لایا جائے۔اور انکی ماہانہ اجرت 26000روپئے مقرر کی جائے۔رجسٹرڈ ٹرےڈ یونینوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔MGNREGA کے تحت خرچ کی گئی بقایا رقومات کو فوری طور پر واگزار کیا جائے۔ اس سیکم کے لئے بجٹ بڑھایا جائے اور یومیہ مزدوری کو 600 روپے کر دیا جائے۔اولڈ اےج پینشن حاصل کرنے والوں کو غیر ضروری دفتری طوالت سے چھٹکارا دلایا جائے۔سرکاری ملازمےن کوجبری طور پر ملازمت سے برخواست کرنا بند کےا جائے اور ملک دشمنی کے الزام میں ملوث کسی بھی ملازم کو اپنی صفائی کا بھر پور موقع دیا جائے۔ضلع کولگام میں دستیاب آبی وسائل کو استعمال میں لاکرچھوٹے پن بجلی پروجیکٹ تعمیر کئے جائیں۔نشے کی لت کے خلاف پرُ اثر اور زور دار مہم چلائی جائے ۔جسمانی طور کمزور افراد کے ماہانہ پینشن کو بڑھا کر6000 روپئے کر دیا جائے۔ عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لئے جد وجہد کرنا۔
پارٹی منشور
پارٹی نے کہا کہ ہمارا منشور یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں روزگار کے وسائل پر پہلا حق مقامی نوجوانوں کا ہونا چاہئیے۔گجر بکروال، گدی،چوپان اور دیگر قبائلی آبادی کو جنگلات کی زمین سے، جو کافی عرصے سے ان کے قبضہ میں ہے بے دخل نہ کیا جائے۔ہارٹی کلچر سیکٹر کو بچانے کے لئے در آمد ہونے والے میوہ جات پر(100) فی صد ٹیکس عائد کیا جائے ۔اور نقلی ادوےات پر قدگن لگاےا جائے۔کسانوں کے نام بقایا زرعی قرضہ جات کو معاف کیا جائے۔ناقابل برداشت بجلی فےس کو کم کیا جائے اور سمارٹ میٹرلگانے پر روک لگائی جائے۔
تعلیمی سیکٹر پر GDP کا 6 فی صد مختص کیا جائے۔تمام تعمیراتی مزدوروں کو 60 سال کی عمر کے بعد ماہانہ پینشن کے دائرہ میں لایا جائے۔جموں و کشمیر میں صحت عامہ کے لیے بجٹ کا کم از کم) (5 فی صد مختص کیا جائے ۔تمام اسپتالوں بشمول صورہ مےڈےکل انسٹیٹیوٹ اورمےڈےکل کالجوں میںخالی پڑی اسامےوں کو بلا تاخےر پُر کیا جائے۔اور علاج و معالجہ کے لئے ضروری سازو سامان نےز معیاری مشینیں دستیاب رکھی جائیں۔اور غےر معےاری ادوےات کی خرےد وفروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ترقی اور سیاحت کے نام پر قدرتی ماحول اور ماحولیاتی توا زن کو بگاڑا نہ جائے۔
آبی ذخائر جن میں دریائے جہلم،نالہ وےشو، جھیل ڈل، مانسبل اور ولر بھی شامل ہیں کوآلود گی سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کئے جائیں۔جنگلات کا تحفظ ےقینی بنانے کے ساتھ ساتھ Forest Rights Act کو لاگو کیا جائے۔کشمیری پنڈتوں کی باعزت بازآبادکاری اور دےگر فوری مسائل کو حل کرنے کے خاطر ٹھوس اقدامات اُٹھائےں جائیں۔