سرینگر/کپواڑہ، :جموں و کشمیر پولیس نے منشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت سرینگر اور شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران برائون شوگر اور ہیروئن نما نشہ آور مادہ برآمد کرتے ہوئے ایک خاتون سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرینگر میں پولیس اسٹیشن کرالہ کھڈ کی ٹیم نے جمعرات کو ناکہ چیکنگ کے دوران 14 گرام نشہ آور مادہ، جس کی شناخت برائون شوگر کے طور پر کی گئی ہے، برآمد کیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ برآمدگی بربر شاہ، سرینگر کے رہائشی دو افراد ریس احمد ڈار عرف ریس بنڈار اور عابش امتیاز بٹ کے قبضے سے عمل میں لائی گئی۔
پولیس کے مطابق دورانِ تلاشی ملزمان ایک گاڑی زیر رجسٹریشن نمبر JK05D-2631 میں سوار تھے، جسے تفتیش کے سلسلے میں ضبط کر لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس اسٹیشن کرالہ کھڈ میں ایف آئی آر نمبر 02/2025 درج کی گئی ہے، جو نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینسز ایکٹ کی دفعات 8، 21 اور 29 کے تحت درج ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات کے منبع اور ممکنہ سپلائی چین سے متعلق تفتیش جاری ہے، جبکہ مزید گرفتاریوں سے بھی انکار نہیں کیا گیا۔
ادھر ضلع کپواڑہ میں پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کے دوران ایک خاتون کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے دو کلو 200 گرام ہیروئن نما نشہ آور مادہ برآمد کیا ہے۔ یہ کارروائی ضلع کے گُلگام علاقے کے ماگری محلہ میں ناکہ چیکنگ کے دوران عمل میں لائی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت نعیمہ بیگم زوجہ ارشاد احمد میر کے طور پر ہوئی ہے، جو اصل میں کرناہ کی رہائشی ہے اور اس وقت ماگری محلہ، گُلگام میں مقیم تھی۔ خاتون کی ذاتی تلاشی کے دوران یہ بھاری مقدار میں نشہ آور مادہ برآمد کیا گیا، جس کے بعد اسے موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔
اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن کپواڑہ میں ایف آئی آر نمبر 13/2026 درج کی گئی ہے، جو این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8، 21 اور 29 کے تحت ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران منشیات کے آگے اور پیچھے کے نیٹ ورک (Forward & Backward Linkages) کا پتہ لگایا جائے گا اور مزید برآمدگیوں و گرفتاریوں کا امکان بھی موجود ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ خاص طور پر شمالی کشمیر کے سرحدی اور ٹرانزٹ علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس سماجی ناسور کے خاتمے کے لیے قانون پوری سختی سے نافذ کیا جائے گا۔





