ہفتہ, اگست ۳۰, ۲۰۲۵
18.5 C
Srinagar

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن ضلع کولگام کی دوسری سالانہ کانفرنس آہرا بل میں منعقد

صدر جی این وار نے تعلیمی کیلنڈر میں اصلاحات اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کی وکالت کی

سری نگر: پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن آف جموں و کشمیر ضلع کولگام نے اپنی دوسری سالانہ کانفرنس آہرا بل، کشمیر میں منعقد کی۔ اس اہم موقع پر اسکول کے منتظمین، اساتذہ، اور کمیونٹی کے رہنماں سمیت کلیدی اسٹیک ہولڈرز کا اجتماع ہوا تاکہ علاقے کے نجی اسکولوں کو درپیش مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔

اس کانفرنس کی مہمان خصوصی پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار تھے۔ اس تقریب کا شاندار انتظام پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن ضلع کولگام کے صدر وسیم صدیق، پیٹرن غلام حسن راتھر، چیف آرگنائزر جہانگیر احمد بٹ، ضلع نائب صدر فاروق احمد نائیک، ضلع سیکریٹری ارشد احمد بٹ، اور ضلع خزانچی عابد حسین لون وغیرہ نے کیا تھا۔

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے کانفرنس کے دوران کہا، "اس کانفرنس کا بنیادی مقصد نجی اسکولوں کو درپیش چیلنجز کو حل کرنا ہے، خاص طور پر تعلیمی طریقوں میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیاں۔ شرکاء نے بعض حکومتی ضوابط کی طرف اشارہ کیا، جو کبھار جدت کو روکنے اور طلباء کی جدید تعلیمی مواقع تک رسائی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پالیسیوں کی تشکیل میں زیادہ باہمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ نجی اسکول ٹیکنالوجیز کو مؤثر طریقے سے لاگو کر سکیں، ساتھ ہی قواعد و ضوابط کے معیار پر پورا اتر سکیں۔”

وار نے مزید کہا، "مارچ کا سیشن کشمیر ویلی کے طلباء کے لیے سودمند نہیں رہا۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی کیلنڈرز کا دوبارہ جائزہ لیں تاکہ ہمارے طلباء کو بغیر کسی رکاوٹ کے بہترین تعلیم فراہم کی جا سکے۔ ہمارے نجی اسکولوں کے مسائل صرف انتظامی نہیں ہیں؛ یہ براہ راست ہمارے بچوں کی تعلیم کے معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مزید برآں، مصنوعی ذہانت میں تیز تر ترقیات تعلیمی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہیں، جو ہمارے اسکولوں کے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں فراہم کر رہی ہیں۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ان ٹیکنالوجیز کو مؤثر طریقے سے ضم کیا جا سکے، اور ہمارے طلباء کو مستقبل کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کیا جا سکے۔ اصلاحات ضروری ہیں نہ صرف آج کے لیے، بلکہ ہمارے بچوں کو ان کے ورثے میں آنے والی دنیا کے لیے تیار کرنے کے لیے۔”

ضلع صدر وسیم صدیق نے نجی اسکولوں کو درپیش چیلنجز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، "کشمیر میں نجی تعلیم کے شعبے پر ایسی پالیسیوں کا مسلسل دباؤ ہے جو ہمارے طلباء کی ضروریات کے مطابق نہیں ہیں۔ ہمارے اسکول صرف ادارے نہیں ہی، وہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی زندگی کی لیف لائن ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان غیر منصفانہ چیلنجز کو فوراً حل کیا جائے۔ تاکہ ہماری معیاری تعلیم فراہم کرنے کی عزم میں کوئی کمی نہ آئی، اب وقت آگیا ہے کہ حکام ہماری کوششوں کی حمایت کریں، نہ کہ رکاوٹ بنیں۔”

چیف آرگنائزر ، شاہ گلزار نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کی کامیابیوں اور جاری کوششوں پر روشنی ڈالی، "اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے وہ قابل تحسین ہے، لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ ہمیں تعلیم میں برتری کی کوششیں جاری رکھنی ہوں گی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے وادی کے ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ یہ کانفرنس ہمارے اس مقاصد کے لیے عزم کی علامت ہے۔”

اس موقع پر مرکزی باڈی کے عہدیداروں بھی موجود تھے جن میں فیصل اسلام میر، جنرل سیکریٹری، شاہ گلزار، مجید بٹ، بلال بٹ، طاہر وگے اور دیگر نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ موقع پر موجود مہمانوں نے نجی اسکولوں سے متعلق اہم کامیابیوں اور مسائل پر بات چیت کی۔

یہ تقریب تمام اراکین کی جانب سے نجی اسکولوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے دوبارہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے اپنے اراکین کو درپیش چیلنجز کو حل کرنے اور کشمیر میں نجی تعلیم کی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img