جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات 10 سال بعد ہونے جارہے ہیں ۔یہ انتخابات اس لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیوں کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات’ یو ٹی ‘ سطح پر ہو رہے ہیں۔مرکزی سرکار نے اگر چہ دفعہ 370کے خاتمے کے وقت پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا تھا کہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ دوبارہ بحال کیا جائے گا اور منتخب نئی حکومت کو عوام کی خدمت اور تعمیرو ترقی کرنے کا بھرپور موقع اور اختیار دیا جائے گا۔ تاہم جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پہلے ہی یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ تب تک اسمبلی انتخابات نہیں لڑیں گے، جب تک نہ جموںو کشمیر کا ریاست ی درجہ بحال نہیں ہوتا۔بہرحال عدالت عظمٰی کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ملک کے بااختیار اور آئینی ادارہ الیکشن کمیشن آف انڈیانے گزشتہ روز فیصلہ لیا کہ ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر یو ٹی میں بھی تین مراحل میں اسمبلی انتخابات منعقد کئے جائیں گے اور اس طرح جموںو کشمیر کے عوام اور سیاستدانوں کی دیرینہ مانگ پوری ہوئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں موجود سیاسی پارٹیاں عوام کے سامنے کیا منشور لیکر جائیں گی؟۔ ماضی میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران تمام سیاسی پارٹیوں کا نعرہ مسئلہ کشمیرکا پُر امن حل، امن و سلامتی اور ہند ۔پاک بہتر تعلقات کے دائرے میں محدودہوتا تھا۔اب مرکزی سرکار نے مسئلہ کشمیر کو یہ مان کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کیا ہے کہ یہ خطہ پوری طرح ملک کے ساتھ ضم ہوچکا ہے اور اب دیگر ریاستوں کی طرح اس خطے میں بھی مرکزی قوانین لاگو ہوئے اور باقی ریاستوں کی طرح یہاں بھی یکساںبنیادوں پر تعمیر و ترقی ہوگی۔گزشتہ دس برسوں کے دوران اگر چہ کشمیر میں امن بحال ہوا ہے لیکن اب جموں خطے میں ملی ٹنسی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ایل جی انتظامیہ نے نئے قوانین بنائے،نئی حد بندی کی گئی، لیفٹیننٹ گور نر کو لا محدود اختیارات تفویض کئے گئے،اُن کے پاس اب چیف منسٹر سے زیادہ اختیارات ہوں گے۔ان حالات میں کون سیاسی پارٹی عوام کا منڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔جہاں تک علاقائی پارٹیوں کے درمیان انتخابات سے قبل گٹھ جوڑ کا تعلق ہے ، یہ ناممکن نظر آرہا ہے کیونکہ پی ڈی پی اور این سی کے درمیان پہلے ہی لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے۔جہاں تک اپنی پارٹی کا تعلق ہے، اس پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ اُن کی پارٹی کسی کے ساتھ انتخابی گٹھ جوڑ نہیں کرے گی۔جہاں تک سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کا تعلق ہے ،وہ پہلے سے ہی بدظن ہو چکی ہے اور انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں لوگوں کا رویہ دیکھ کر اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا من بنا لیا ہے۔ادھر کانگریس نے بھی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سابق منسٹر اور نامور سیاسی شخصیت طارق حمید قرہ کو جموںو کشمیر کا صدر مقرر کرکے ایک نیا کارڈ کھیلا ہے ۔
مرکزی حکومت نے جماعت اسلامی کے لیڈران کی اپیلوں پر کان نہ دھرتے ہوئے انہیں انتخابات میں کودنے کا موقع فراہم نہیں کیا ہے، جس سے یہ بات صاف ہو رہی ہے کہ وادی میں اچھا خاصہ ناراض ووٹ بنک ہے، وہ کس کے کھاتے میں جائے گا۔پی ڈی پی کے ساتھ اس اہم ووٹر کا ناطہ اس لئے ٹوٹ گیا ہے۔کیوں کہ سن2014میں انہوں نے منڈیٹ پاکر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا ڈالی جو بقول اس ناراض ووٹر کے ساتھ سراسر دھوکہ تھا۔بی جے پی جموں وکشمیر میںاپنی پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے میں ناکام رہی ۔ان حالات میں آنے والے وقت میں کس جماعت کو اکثریت ملے گی؟ اور کون سے پارٹی کس پارٹی کیساتھ اتحاد کرکے جموں وکشمیر میں نئی سرکار تشکیل دے گی،یہ کہنا ہے قبل از وقت ہوگا ۔تاہم عوامی حلقے اس بات پر خوش ہیں کہ مرکزی حکومت اورا نتخابی کمیشن نے اسمبلی انتخات کرانے کا اعلان کیا ہے، اُس سے عوا م کو اپنے نما ئندے منتخب کرنے کاموقع فراہم ہوگا لیکن اب ووٹران کے ہاتھ میں تمام سیاسی پارٹیوں کی سیاسی تقدیر ہے کہ وہ کس پارٹی کے منشور کو پسند کریں گے اور کس کا نہیں!۔ایک بات صاف ہے کہ ناراض ووٹر ان انتخابات میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں، اگر وہ اپنے آزاد امیدوار کھڑا کریں گے ،اگر وہ حسب سابقہ خاموش رہے تو پھر یہ طے ہے کہ پُرانے لوگ ہی نئی صورت میں سامنے آسکتے ہیں ۔
