نو اوبجیکشن۔۔۔۔۔۔می لارڈ۔۔۔!!….افسانہ

نو اوبجیکشن۔۔۔۔۔۔می لارڈ۔۔۔!!….افسانہ
فاضل شفیع بٹ
سورج کا سرخ گولہ آگ اگل رہا تھا۔ ہر سمت گرم ہواؤں کا قہر بپا تھا۔ اسی جھلستی گرمی میں اکرم کے دونوں ہاتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اس کو پولیس کی نگرانی میں ابھی ابھی کورٹ کے احاطے میں لایا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اکرم نے شاید کسی کا بے دردی سے خون کیا ہے۔ اس کو ایک قاتل کی طرح پولیس کی نگرانی میں جج کے سامنے پیش ہونا تھا۔ اکرم کے افسردہ چہرے سے پریشانی اور بے بسی کے تاثرات صاف صاف جھلک رہے تھے۔ اکرم ایک پھٹے پرانے کُرتا پاجامہ میں ملبوس تھا۔ پولیس کے دو جوانوں نے اکرم کو گھسیٹتے ہوئے جج صاحب کے سامنے پیش کیا۔
جج صاحب اپنی کرسی پر آرام سے بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اپنے اپنے مقدمات کو لے کر عدالت میں انصاف کے منتظر تھے۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ عدالت کے چکر کاٹ رہے تھے اور آج بھی جج صاحب حسب معمول بنا کسی فیصلے کے ان کے مقدمات کو نئی تاریخ فراہم کر رہا تھا۔
  پولیس کی نگرانی میں اکرم جج صاحب کے سامنے کھڑا تھا۔ جج صاحب اکرم کو دیکھتے ہی آگ بگولا ہوا۔ اس نے تیکھے لہجے میں اکرم سے مخاطب ہو کر کہا:
” اکرم،  کیسا آدمی ہے تو۔ دو مہینے سے جیل میں سڑ رہا ہے۔ عید کے بابرکت موقعےپر بھی تم جیل میں تھے۔ تمہاری ضمانت کے لیے میرے پاس کوئی نہیں آیا۔ میں حیران ہوں کہ کیا واقعی تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے یا کسی کو تمہاری فکر ہی نہیں ہے”
 اکرم سر جھکاتے ہوئے نہایت عاجزی سے بولا:
”  جناب میں جیل میں ہی ٹھیک ہوں۔ مجھے جیل کی چار دیواری سے لگاؤ ہے۔ کیونکہ وہاں میری روح کو سکون میسر ہوتا ہے۔ جج صاحب میں نے کوئی جرم نہیں کیا لیکن پھر بھی آپ نے میرے ساتھ ظلم کیا ہے۔ بے گناہ ہو کر بھی آپ نے مجھے دو مہینے کی سزا سنائی”
” دیکھ اکرم۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہاری بھلائی کے لیے تمہیں جیل بھیج دیا۔ مجھے لگا شاید تم اپنے رویے میں کسی حد تک سدھار لانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ میں آپ کا دشمن نہیں ہوں۔ میری کرسی انصاف پر مبنی ہے اور تم اپنی بیوی اور بیٹی کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے آپ کو بے گناہ تسلیم کرتے ہو۔ یہ شرم کی بات ہے”جج صاحب  نرم لہجے میں اکرم سے مخاطب تھا۔
 عدالت میں موجود لوگ ایک دم سے چونک گئے۔ اکرم کوئی قاتل نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کوئی سنگین جرم کیا تھا۔ سب  لوگوں نے بڑی حیرت  سے اکرم کی جانب اپنی نظریں مرکوز کی تھیں۔ اسی اثناء میں  ایک عورت اپنی چھوٹی سی بیٹی کے ہمراہ عدالت میں نمودار ہوئی۔ یہ اکرم کی بیوی حاجرہ تھی۔ اکرم کی بیوی ہونے کے باوجود وہ اپنے شوہر سے نظریں ملانے سے قاصر تھی۔ اسی کے کہنے پر جج صاحب نے اکرم کو جیل بھیجا تھا۔ اکرم کی بیٹی اپنے باپ کو دیکھتے ہی اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ وہ زور زور سے رو رہی تھی۔ عدالت کی فضا آب دیدہ تھی۔حاجرہ نے غضب ناک انداز سے اپنی بیٹی کواکرم سے الگ کیا۔ وہ میاں بیوی زندگی کے ایک ایسے موڑ پر تھے جہاں دونوں کے خون میں ایک دوسرے کے لیے شدید نفرت گردش کر رہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو قہر آلود نظروں سے گھور رہے تھے۔
 چند سال پہلے ہی ان کی شادی طے ہوئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ دونوں نے زندگی بھر ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں۔ دونوں نے اپنی جسمانی تسکین حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو محبت سے لبریز کیا تھا۔ وہ ایک ہی بستر میں سوتے تھے، ایک ساتھ نہاتے تھے، ایک ہی کپ میں چائے پیتے تھے، گویا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اکرم اور حاجرہ دو جسموں میں پیوست ایک ہی روح تھی۔ اکرم کی بے لوث محبت کی نشانی نے پری کی صورت میں دنیا میں جنم لیا۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد اکرم کو اپنی بیوی کے ساتھ ساتھ پری کی ضروریات زندگی کا بھی خاص خیال رکھنا تھا کیونکہ وہ ایک مرد تھا اور مرد کے لیے اپنے اہل خانہ کی فکر مندی کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات کو پورا کرنا ایک فرض سمجھا جاتا ہے۔ ایک ایسا فرض جس کو ادا کرنے کے لیے کسی بھی مرد کے لیے کوئی عذر پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
 اکرم دن بھر مزدوری کر کے اپنے اس فرض کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا گیا لیکن اس کی ہر کوشش بے سود ثابت ہو رہی تھی اور اس کشمکش میں وہ دھیرے دھیرے ذہنی تناؤ کا شکار ہوا جس سے نمٹنے کے لیے اکرم نے منشیات کا سہارا لینا شروع کیا۔ نتیجتاً حاجرہ اکرم کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنے میکے چلی گئی۔
 مہینے بیت گئے، لیکن اکرم نے کبھی بھی اپنی بیٹی اور بیوی کی خبر گیری کرنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ زندگی کی مستی میں مگن تھا۔ شاید شادی سے لے کر پری کی پیدائش تک کا محبت کا زمانہ اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا یا وہ اپنی بیوی حاجرہ سے اکتا چکا تھا یا وہ ایک کامیاب باپ بننے کے اہل نہ تھا۔ بیٹی کی پیدائش نے حاجرہ اور اکرم کے درمیان ایک خلا پیدا کر دیا تھا۔ باپ ہونے کے باوجود پری ایک یتیم لڑکی کی طرح اپنی زندگی بسر کر رہی تھی۔ انتھک کوششوں کے باوجود حاجرہ کا بھائی اپنی بہن اور اس کی بیٹی کے اخراجات کو صحیح ڈھنگ سے پورا کرنے سے قاصر تھا ۔ جس کی وجہ سےحاجرہ کو  کافی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا   اور وہ اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرنے پر مجبور ہوئی۔
 عدالت کی جانب سے اکرم کو متعدد بار حاضر ہونے کے لیے حکم نامہ جاری کیا گیا لیکن اکرم ان احکامات سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا اور ایک سال کی مدت کے بعد بالآخر اکرم عدالت میں حاضر ہوا۔ حاجرہ کی روداد سننے کے بعد جج صاحب نے اکرم کو اس کی بیوی اور بیٹی کے اخراجات پورا کرنے کے لیے ایک حکم نامہ صادر کیا۔
 عادت سے مجبور اکرم نے اس حکم نامہ کی طرف کوئی دھیان مبزول نہیں کیا اور حاجرہ اپنی بیٹی کے ہمراہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئی۔ اگلی سماعت پر حاجرہ جج صاحب کے سامنے بلک بلک رونے لگی۔ اس کے چہرے پر مفلسی اور بے بسی کے تاثرات صاف صاف عیاں تھے۔ جج صاحب نے مجبور ہو کر اکرم کو دو مہینے کے لیے جیل بھیج دیا۔
 جیل میں دو مہینے قیام کرنے کے بعد بھی اکرم کے رویے میں کوئی سدھار دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ ایک غیر ذمہ دار انسان تھا جس کو اپنی بیٹی اور بیوی کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ ان دونوں سے ہر حال میں چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا اور آج جب جج صاحب نے دو مہینے بعد پھر اکرم سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بے دلی سے جیل میں رہنے کے لیے اصرار کیا۔ جج صاحب نے اکرم کو ایک آخری موقع فراہم کرتے ہوئے اس کی رہائی کے احکامات صادر کیے۔
 اکرم اب جیل سے رہا ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے لیے ایک عمدہ وکیل کا انتخاب کیا۔ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دینا چاہتا تھا۔ وہ ان دونوں سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کر رہا تھا۔ اس کی نظر میں اس کی بیوی اس کی سب سے بڑی دشمن تھی کیونکہ اسی کے کہنے پر جج صاحب نے اکرم کو جیل بھیجا تھا۔ اکرم نے ہمیشہ سے اپنی بیٹی سے دوری اختیار کی تھی جس کی وجہ سے اس کے دل میں اپنی بیٹی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ اکرم اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے آمادہ تھا لیکن حاجرہ کسی بھی صورت میں اپنے شوہر سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی۔
 اکرم اور حاجرہ کے وکیل نے میاں بیوی کے در پردہ ملاقات کی اور دونوں کو طلاق کے لیے آمادہ کرنے کی تدبیر سوجھی۔ ملاقات میں یہ بھی طے پایا گیا  کہ اکرم جرمانہ کے طور چار لاکھ روپے کی رقم حاجرہ کو ادا کرے گا اور اس رقم کی لالچ دے کر حاجرہ کو بڑے آرام سے طلاق کے لیے آمادہ کیا جاسکتا ہے۔
 حاجرہ کے وکیل نے  اپنی شیطانی سوچ کے توسط سےحاجرہ کو  طلاق کے لیے آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ حاجرہ کو چار لاکھ روپے کا لالچ دیا گیا اور اسے کہا گیا کہ یہ رقم وہ اپنی بیٹی کے تابناک مستقبل کو سنوارنے کے لیے صرف کر سکتی ہے۔ حاجرہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ اکرم کے غیر ذمہ دارانہ رویےنے حاجرہ کی امیدوں  کا گلہ گھونٹ دیا تھا۔ اس کو پیسوں کی سخت ضرورت تھی ویسے بھی وہ اپنے بھائی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔ حاجرہ نے بالآخر طلاق کے لیے ہامی بھر لی۔
 سوموار کا دن تھا۔ آج عدالت میں حاجرہ اور اکرم کو پیش ہونا تھا۔ چند سال پہلے اسی سوموار کو حاجرہ کی وداعی ہوئی تھی  اور آج ہی کے دن حاجرہ ہمیشہ کے لیے اکرم سے اپنا رشتہ توڑنے والی تھی۔ اکرم نے اپنی تھوڑی سی زمین بیچ کر چار لاکھ روپے کا انتظام کر لیا تھا۔ اس کام کے لیے اسکے وکیل نے کافی مدد کی تھی اور اپنے ایک دوست کو اکرم کی زمین خریدنے کے لیے آمادہ کیا تھا۔
 دونوں وکیلوں کے چہروں پر ایک شیطانی چمک تھی۔ وہ حاجرہ اور اکرم کے متبرک رشتے کو آج ہمیشہ کے لیے ختم کرنے والے تھے۔ جج صاحب کو یہ کہہ کر کیس برخواست کرنے کو کہا گیا کہ حاجرہ اور اکرم آپس میں خود سے سمجھوتہ کرنے کے لیے آمادہ ہو چکے ہیں۔ جج صاحب نے بلا کسی عذر کے حاجرہ کا مقدمہ برخواست کیا۔
 حاجرہ اور اکرم کو وکیلوں نے اپنے چیمبر میں طلب کیا۔ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر طلاق نامہ تحریر کیا جا رہا تھا۔  زمین و آسمان تھرتھرا رہے تھے۔ آج ایک جوڑا ایک دوسرے سے جدا ہو رہا تھا اور وکیل گرم چائے کی چسکیاں لے کر  کھلکھلا رہے تھے۔ طلاق نامہ تیار ہو گیا۔ حاجرہ اور اکرم نے چند گواہان کی موجودگی میں  طلاق نامے پر  اپنے اپنے دستخط کر دیے۔ اکرم نے چار لاکھ کی رقم اپنے جیب سے نکال کر اپنے وکیل کے سپرد کردی۔
 اکرم کے وکیل نے بڑے ہمدردانہ طریقے سے دو لاکھ کی رقم حاجرہ کو سونپ دی اور اسے کہا کہ وہ اس رقم سے اپنی بیٹی کا اچھے سے خیال رکھیں۔ حاجرہ ایک دم سے چونک گئی۔ وہ چار لاکھ کے عوض مشکل سے طلاق کے لیے آمادہ ہوئی تھیں۔ اس نے بڑی انکساری سے وکیل صاحب سے مخاطب ہو کر کہا:
” وکیل صاحب آپ نے  طلاق کے لیے  چار لاکھ کی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا اور اب آپ بے ایمانی کر رہے ہیں۔ آج اس مہنگائی کے دور میں میں اتنی قلیل رقم لے کر کیا کروں گی؟ آپ کو وعدے کے مطابق مجھے چار لاکھ دینے ہوں گے ورنہ میں یہ طلاق قبول نہیں کر سکتی”
 وکیل نے ایک زوردار قہقہہ لگا کر کہا:
”  حاجرہ بیگم آپ اپنے ہاتھ کاٹ چکی ہیں۔ آپ کی طلاق ہو چکی ہے  اور رہی بات پیسوں کی تو آپ یہ بھول رہی ہیں کہ وکیلوں کی فیس بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔ یہ تو ہماری مہربانی ہے کہ آپ کو دو لاکھ کی رقم سونپ رہے ہیں وہ اس لیے کہ آپ کی ایک کم سن بیٹی ہے اور اسی کا لحاظ کر تے ہوۓ  ہم  آپ کو دو لاکھ دینے پر آمادہ ہوئے ہیں۔  گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ ہم دونوں وکیل صاحبان نے پہلے ہی یہ مسئلہ طے کیا ہوا ہے۔ ہم دونوں بحصہ مساوی ایک ایک لاکھ کی رقم فیس کے طور پر وصول کر رہے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ ہمارا قیمتی وقت برباد نہ کریں”
 حاجرہ آب دیدہ آنکھوں سے دو لاکھ روپے لے کر چیمبر سے پری کے ہمراہ اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئی۔ حاجرہ پری کے مستقبل کو لے کر ایک گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
 دونوں وکیلوں نے ایک لاکھ  ایک لاکھ کی رقم آپس میں تقسیم کی اور پھر سے ایسے مقدمات کے بارے میں میٹنگ کرنے میں مصروف ہو گئے اور اکرم خوشی خوشی دوسری شادی کے سپنے سجا کر وکیل صاحبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عدالت سے رخصت ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.