واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد کہا ہے کہ ہندستان امریکہ سے درآمدات میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنے، امریکی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی ’’صفر‘‘ کرنے اور روس سے خام تیل کی خریداری بند کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ اس کے بدلے میں امریکہ ہندستانی مصنوعات پر ’’فوری اثر ‘‘ سے درآمدی ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے مسٹر مودی کو اپنا ’’سب سے اچھا دوست‘‘ قرار دیا اور لکھا کہ وہ روس سے خام تیل کی خرید روکنے اور امریکہ، ممکنہ طور پر وینزویلا، سے خرید بڑھانے پر متفق ہو گئے ہیں، جس سے یوکرین جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ فوری اثر کے ساتھ ہندستانی مصنوعات پر جوابی درآمدی ٹیرف 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دے گا، جبکہ اس کے بدلے ہندستان ’’امریکی مصنوعات پر درآمدی ٹیرف اور دیگر درآمدی رکاوٹوں کو گھٹا کر ’’صفر‘‘ کر دے گا۔
امریکی صدر کے مطابق مسٹر مودی اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ ہندستان توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے کے علاوہ امریکہ سے درآمدات میں اضافہ کرے گا۔
امریکہ کی وزیرِ زراعت بروک رولنز نے اس معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس سے ہندستان کی وسیع منڈی میں امریکی زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھیں گی، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور امریکہ کے دیہی علاقوں میں آمدنی میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہندستان کے ساتھ زرعی تجارت میں سال 2024 میں امریکہ کا تجارتی خسارہ 1.3 ارب ڈالر پر تھا۔ امریکی زرعی مصنوعات کے لیے ہندستان کی بڑھتی ہوئی آبادی ایک اہم منڈی ہے اور آج کا یہ تجارتی معاہدہ اس خسارے کو کم کرنے میں طویل المدتی کردار ادا کرے گا۔
یواین آئی





