ہاتھرس حادثے کی جانچ پوری، پروگرام آرگنائزر اصل ذمہ دار

ہاتھرس حادثے کی جانچ پوری، پروگرام آرگنائزر اصل ذمہ دار

لکھنؤ: ہاتھرس کے سکندراراؤ میں گذشتہ دو جولائی کو ستسنگ پروگرام کے دوران ہوئی بھگدڑ کے لئے پروگرام آرگنائزر کا اصل خاطی ٹھہرایا گیا ہے وہیں ضلع انتظامیہ کی بھی جوابدہی طے کی گئی ہے۔

حادثے کے فوران بعد تشکیل اے ڈی جی زون آگرہ اور ڈویژنل کمشنر علی گڑھ کی ایس آئی ٹی نے 02،03اور05 جولائی کو موقع واردات کا معائنہ کیا تھا۔ جانچ کے دوران کل 125افراد کا بیان لیا گیا۔ جس میں انتظامیہ اور پولیس افسران کے ساتھ عوام الناس اور چشم دیدوں کے بیانات شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ واقعہ کے ضمن میں شائع اخبارات کی کاپیاں، مقامی فوٹو گرافی، ویڈیو کلپنگ کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔

ایس آئی ٹی نے ابتدائی جانچ میں چشم دید گواہوں و دیگر شواہد کی بنیاد پر حادثے کے لئے پروگرام آرگنائزرس کو اصل ذمہ دار مانا ہے۔ جانچ کمیٹی نے اب تک ہوئی جانچ و کاروائی کی بنیاد پر حادثے کے پیچھے کسی بڑی سازش سے بھی انکار نہیں کیا ہے اور باریک بینی سے جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جانچ کمیٹی نے پروگرام آرگنائزر اور تحصیل سطح کے پولیس و انتظامیہ کو بھی خاطی پایا ہے۔ مقامی ایس ڈی ایم، سی او ، تحصیل دار، انسپکٹر، چوکی انچارج کے ذریعہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں لاپرواہی کے ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایس ڈی ایم سکندراراؤ کے ذریعہ بغیر جائے پروگرام کا معائنہ کئے انعقاد کی اجازت دی گئیہ ے اور سینئر افسران کو آگاہ تک نہیں کیا گیا۔ ان افسران کے ذریعہ پروگرام کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور سینئر افسران کو آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔ ایس آئی ٹی نے متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی سفارش کی ہے۔اسی ضمن میں ایس ڈی ایم، سکندرا راؤ، پولیس سرکل افسر سکندراراؤ، تھانہ انچارج سکندراراؤ، تحصیل دار سکندراراؤ، چوکی انچارج کچورا اور چوکی انچارج پورا کو حکومت کے ذریعہ معطل کردیا گیا ہے۔

آرگنائزرس نے حقائق کو چھپا کر پروگرام کے انعقاد کی اجازت لی۔ اجازت کے لئے شرائط پر عمل نہیں کیا گیا۔ آرگنائزر کے ذریعہ غیر متوقع بھیڑ کو مدعو کر وافر اور بہتر انتظام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی پروگرام کے لئے مقامی انتظامیہ کے ذریعہ دی گئی اجازت کے شرائط پر عمل کیا گیا۔

آرگنائزنگ بورڈ سے جڑے لوگ بدنظمی پھیلانے کے خاطی پائے گئے ہیں۔ ان کے ذریعہ جن افراد کو بغیر پولیس تصدیق کے جوڑا گیا ان سے بدنظمی پھیلی۔آرگنائزنگ بورڈ کے ذریعہ پولیس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ مقامی پولیس کو جائے پروگرام کا معائنہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

ستسنگ اور بھیڑ کو بغیر سیکورٹی انتظامات کے آپس میں ملنے کی چھوٹ د ے دی گئی۔ بھاری بھیڑ کے پیش نظر یہاں کسی طرح کی بیریکیٹنگ یا پیسج کا انتظام نہیں کیاگیا تھا۔اور حادثہ ہونے پر آرگنائزنگ بورڈ کے اراکین موقع واردات سے فرار ہوگئے۔قابل ذکر ہے کہ اس حادثے میں 121 افراد کی موت ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں پروگرام کے مین آرگنائز کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔


یواین آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.