مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات جمہوریت کی روح :اوپی شاہ

مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات جمہوریت کی روح :اوپی شاہ

 جموں وکشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام خطوں میں منقسم کرنے کا فیصلہ بد قسمتی 

شوکت ساحل

سرینگر: بھارت کے معروف سماجی کارکن وامن کے داعی، او م پرکاش شاہ (او پی شاہ ) نے مذاکرات کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی تنسیخ اور ریاست جموں وکشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام خطوں میںمنقسم کرنے کا فیصلہ بد قسمتی ہے ۔انہوں نے نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان رشتے کو مضبوط کرنے اور ہندوپاک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو وقت کی اہم ضرورت سے تعبیر کیا ۔ایشین میل کے ملٹی میڈیا پروگرام ’ون آن ون ‘ میں خصوصی گفتگو کے دوران او پی شاہ نے کہا کہ 5اگست2019کو مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کی تنظیم نو سے متعلق جو فیصلہ کیا وہ اُنکی (او پی شاہ ) کی سمجھ سے با ہر ہے ۔

ان کا کہناتھا ’دفعہ370کی تنسیخ اور ریاست جموں وکشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام خطوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ بد قسمتی ہے ‘۔اوپی شاہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میں اس فیصلے کو ایک بد قسمتی کی پیش رفت سمجھتا ہوں ،ریاست کو یوٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ،جمہوری ملک ہندوستان کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے ،ہندوستان کی تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا ،یوٹی کو ریاست میں تبدیل تو کیا گیا لیکن ریاست کو یوٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ، تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی ‘۔

معروف سماجی کارکن وٹریک ٹو ڈپلو میٹ اوپی شاہ نے کہا ’ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے ،ایسا کام نہیں ہوتا تو اچھا تھا،سمجھ میں نہیں آرہا بھارت سرکار کی کیا مجبوری تھی ،ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ اُسے جموں وکشمیر کو یوٹی میں تبدیل کرنا پڑا ،اور اتنے سال تک اسمبلی انتخابات کا نا ہونا ہندوستان کی جمہوریت کی کمزور کو عیاں کرتا ہے ، ملک یہ ہر گز نہیں چاہتا ہے کہ ایک یوٹی یا ریاست کو عوامی حکومت سے محروم رکھا جائے ،سیکولر جمہوریہ بھارت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کا رول کافی نمایاں اور بہترین رہا ہے ۔سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے،یہ میری سمجھ سے باہر ہے ‘۔

ایک سوال کے جواب میں اوپی شاہ نے مذاکرات کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر مذاکرات جمہوریت نامکمل ہے ،اس کے بغیر جمہوریت آگے بڑھ ہی نہیں سکتی ۔ان کا کہناتھا ’جمہوریت کی جب بھی بات ہوتی ہے ،تو ڈائیلاگ سامنے آتا ہے ،آمرانہ یا شخصی راج میں شاید ہی اس کی اہمیت نہ ہو ،لیکن جمہوریت میں ہمیشہ مذاکرات پہلی ترجیح پر رہتے ہیں ‘۔اوپی شاہ نے کہا ’مذاکرات ہر صورتحال میں ہونے چاہیے ،اور سیاسی اتفاق ِ رائے کیساتھ ہونے چاہیے ۔اتنے بڑے ملک میں جس کی متنوع زبانیں اور مذاہب ہیں ،ڈائیلاگ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔‘

انہوں نے کہا ’اگر کوئی سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اُس کے پاس اکثریت ،راج سبھا اور لوک سبھا کی اکثریت میں نشستیں ہیں ،تو مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ،تو یہ غلط سوچ ہے جبکہ اس طرح کی سوچ کا اخلاقی طور پر کوئی جواز نہیں بنتاہے ،مضبوط جمہوریت کی بنیاد مذاکرات ہیں ‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں اوپی شاہ نے کہا ’ کہیں بھی کوئی ایشوز ہیں ،توا نہیں صرف اور صرف ڈائیلاگ سے ہی حل کیا جاسکتا ہے جبکہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے مذاکرات تسلسل کیساتھ ہونے چاہیے ‘ ۔یہ پوچھے جانے پر کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا ایجنڈا کیا رہنا چاہیے ؟او پی شاہ نے کہا کہ عوامی ترجمانوں اور اسٹیک ہولڈرز کیساتھ جب مذاکرات کا آغاز ہوگا ،تو اس کو طے کیا جاسکتا ہے،لیکن اسٹیڈیو میں بیٹھ کر اس وقت اس پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی ‘۔

جب او پی شاہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی منڈیٹ کے تحت واردِ کشمیر ہوئے ہیں؟ ،تو انہوں نے کہا ’میرے پاس کبھی کوئی منڈیٹ نہیں تھا ،میں نے اپنا کر دار ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے نبھایا ہے ۔میں 1992سے کشمیر میں امن کے حوالے سے سرگرم رہا ہوں ،ہر سال دو سے تین مرتبہ کشمیر کا دورہ کرتا ہوں ،آج کایہ دورہ اُسی معمول کا دورہ ہے ،جس دوران میں نے بعض منعقدہ کانفرنسز میں شرکت بھی کی ‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں معروف سماجی کارکن وامن کے داعی نے کہا ’سیول سوسائٹی کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا ، اگر کہیں کوئی ایشوز ہیں ،تو ان کا سد باب کرنے میں سیول سوسائٹی کا رول اہم بنتا ہے ،کیوں کہ ہر کوئی کام سرکار پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے ،سیول سوسائٹی کو اپنا رول موثر انداز میں ادا کرنے چاہیے ،جبکہ سیول سوسائٹی ماضی میں بہترین رول ادا کرچکی ہے ،سیول سوسائٹی کا رول ہر صورتحال میں رہتا ہے اور سیول سوسائٹی کو اپنا رول ہر صورتحال میں نبھانا چاہیے جبکہ اعتمادی سازی کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے جنہیں صرف ِ نظر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے او پی شاہ نے کہا ’نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے ،اگر نہیں ہورہی ہے تو یہ کمزور ی کی نشانی ہے ،2019سے دونوں ملکوں میں ایکدوسرے کے سفیر نہیں ہیں ،فوری طور پر دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے سفیر تعینات کریں اور مذاکرات کے لئے راہ ہموار کریں ،برصغیر میں ان دو اہم پڑوسی ممالک کے درمیان تسلسل کی بنیاد پر بات چیت ہونی چاہیے ‘۔

کشمیر میں پائیدا ر امن کے لئے الیکشن کے انعقاد اور اسٹیٹ کی بحالی کو لازمی قرار دیتے ہوئے اوپی شاہ نے کہا کہ ایشوز کا حل تلاش کرنے کے لئے منتخب حکومت اور مرکز کے درمیان مضبوط رشتہ قائم ہونا چاہیے جبکہ کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے عوام کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں صاف وشفاف انتخابات ضروری ہے اور عوام کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب عمل میں لائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.