منفی سوچ ،جنونی پوسٹ ۔۔۔۔

منفی سوچ ،جنونی پوسٹ ۔۔۔۔

جموں کشمیر ہمیشہ سے ہی مذہبی بھائی چارے کی علامت رہا ہے اور آئندہ بھی رہنے کی اُمید ہے۔موجودہ ڈیجیٹل دور میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ چند پڑھے لکھے لوگ بھی اس طرح کے جنونی پوسٹ شیئر کرتے ہیں جن کی وجہ سے مختلف لوگوں کے دل رنجیدہ ہوتے ہیں ۔اس طرح آپسی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی لاحاصل کوشش کی جارہی ہے۔گزشتہ دنوں سرینگر کے گور نمنٹ میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایک نوجوان نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا بے ہودہ پوسٹراپ لوڈ کیا تھا، جس سے نہ صرف اہل وادی کے دل رنجیدہ ہو گئے ہیں، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جارہاہے۔

اس واقعہ کے بعد نہ صرف وادی کے کالجوں میں طلبہ نے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی بلکہ چند شرپسندوں نے امن و امان بگاڑنے کی کوشش بھی کی۔اس سے قبل بھی سرینگر کے انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم ایک اور لڑکے نے اس طرح کی بے ہودہ حرکت کی تھی اور تب بھی ماحول بگاڑنے کی بھر پور کوشش کی گئی تھی۔جموں کشمیر پولیس کے سربراہ نے اس واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ طالب علم کے خلاف قانونی کارروائی کی اورانہیں کالج سے فارغ کیا تھا۔آج کے واقعے کاجہاں تک تعلق ہے یہ بھی مذکورہ نواجوان کے ذہنی اختراع کی عکاسی کرتا ہے۔

اگر چہ سائبر پولیس نے اس طرح کے پوسٹ شیئر کرنے والے لوگوں کے خلاف زبر دست وارننگ جاری کرتے ہوئے ا یسے فطور ذہن رکھنے والے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروئی کی جائے گی۔ تاہم پھر بھی مختلف پیشہ ورانہ کالجوں میں تدریسی عمل کو معطل کرنا پڑا، تاکہ پُرامن ماحول میں کسی قسم کا رخنہ نہ پڑے۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ اس ملک میں مختلف مذاہب سے وابستہ لوگ رہتے ہیں اور ملک کے اکثر شہری ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کی قدر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہ کر زندگی گذارتے ہیں ۔عید ہو، ہولی،دیوالی ہو یا کرسمس ،نوروز کا تہوار ہو یا بیساکھی لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادی کے پیغام بھیجتےہیں۔وادی کشمیر کا جہاںتک تعلق ہے ،اس وادی میں ذات پات،رنگ نسل اور مذہبی منافرت پر عام لوگ یقین نہیں رکھتے ہیں ،بلکہ ایک دوسرے کے سکھ دکھ اور خوشیوں میں بنا کسی رکاوٹ کے شامل ہو تے ہیں ۔امر ناتھ یاترا کی بات ہو یا پھر ماتا کھیر بھوانی میلے کا تعلق ہو، مسلم برادری سے وابستہ لوگ یاتریوں کے استقبال کے لئے کھڑا رہتے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔اس مذہبی بھائی چارے کو اگر کوئی شخض نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے تاکہ صدیوں پُرانا یہ بھائی چارہ قائم رہ سکے ۔دہائیوں بعد قائم ہوئے امن کو کسی بھی شخص کو زک پہچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور لوگوں کو ایسے افرا د سے ہوشیار اور خبر دار رہنا چاہیے جو کسی بھی طرح امن کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں، ان حالات میں یہ سوچ کرصبر سے کام لینا چاہیے کہ کسی بھی عظیم مذہبی رہنما کے رتبے کوکسی کے غلط کہنے سے فرق نہیں پڑتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.