عوام کا فیصلہ کیا ؟

عوام کا فیصلہ کیا ؟

دوماہ کے طویل عرصے کے بعدملک بھر میں لوک سبھا کے انتخابات آج یعنی ہفتہ کو شام 6بجے اختتام کو پہنچ گئے ۔کل ملا کر یہ انتخابات پرامن اور احسن طریقے سے منعقد ہوئے جس کے لئے ملک کا نتخابی کمیشن مبارک بادی کا مستحق ہے کیونکہ ا تنے بڑے جمہوری ملک میں احسن طریقے سے انتخابات منعقد کرانا کوئی معمولی کام نہیںہے۔انتخابات مکمل ہوتے ہی مختلف صحافتی اور تجزیاتی اداروں نے ایگزٹ پول کے ذریعے سے نئی سرکار کا خاکہ پیش کیا کہ کس پاٹی کو کتنی سیٹوں پر کامیابی ملے گی۔اگر چہ حتمی نتائج کا فیصلہ 4جون کو ہی اُس وقت سامنے گا ، جب ای وی ایمزکھوکی جائیں گی اور پوری طرح سے تصویر صاف ہو جائے گی کہ کس پارٹی کو ملک کے عوام نے اپنا منڈیٹ دیا ہے اور کون سی پارٹی پانچ برس کے لئے ملک میںسرکار چلائے گی۔جہاں تک ایگزٹ پول کرنے والے صحافتی اور تجزیاتی اداروںکا تعلق ہوتا ہے، وہ انتخابات کے دوران اور انتخابات سے قبل ملک کے تمام علاقوں میں جاکر ووٹران کی رائے جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اسی بنا ءپر وہ ایگزٹ پول کا گراف تیار کرتے ہیں ۔یہ ایگزٹ پول اگر چہ کسی حد تک صحیح بھی ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات ان اداروں کو بھی دھوکہ ملتا ہے اور ایگزٹ پول غلط بھی ثابت ہوتا ہے۔

موجودہ ڈیجیٹل دور میں جہاں پل پل کی خبریں سیکنڈوں میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں لیکن عام لوگوں کی رائے حاصل کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ ووٹر کے دل سے اصل اور سچی بات باہرنکالنا پہاڑ کو ہاتھوں سے کھودنے کے مترادف ہے۔ملک کے ایک ارب چالیس کروڑ عوام نے کس پارٹی اور لیڈر کے حق میں اپنا فیصلہ سُنایا ہے، یہ بہر حال چار جون کو واضح ہو ہی جائے گا لیکن اُن تجزیاتی اور صحافتی اداروں کی شبیہ پر سوالیہ نشان لگ جائے گا جنہوں نے مصلحت پسندی سے کام لیکر توڑ مروڑ کر ملک کی سیاسی صورتحال کسی جماعت یا لیڈر کے کہنے پر عوام کے سامنے لائی ہوگی۔گزشتہ چند برسوں سے یہ بات دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ملک کی صحافت میں ایسے لوگ داخل ہو چکے ہیں ،جو صحافی کم لیکن تاجر زیادہ نظر آرہے ہیں۔

دنیا بھر میں صحافی کو اس وجہ سے عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے کیونکہ وہ عوام کا ترجمان ہوتا ہے، جو ہمیشہ ملک اور سماج کی اصل تصویر سامنے لاکر عوام کے مسائل ومشکلات حکومتی ایوانوں تک پہنچاتا ہے اور اس طرح عوام اور سرکار کے درمیان پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔ملک کے صحافیوں کو جہاں بے باکی سے بغیر کسی رنگ و نسل اور ذات پات کے لوگوں کی ترجمانی کرنی چاہیے وہیں حکمرانوں کی بھی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ صحافیوں کے لئے آئین وقانون کے دائرے میں ہر ممکن آزادی فراہم کریں تاکہ پیشہ ور صحافی ملک اور سماج میں ہو رہی غلطیوں کی وقت پر نشاندہی کر سکیں اور انکی درستی بھی ممکن ہو پائے۔بہر حال جہاں تک مختلف صحافتی اور تحزیاتی اداروں کے ایگزٹ پولزکا تعلق ہے وہ کس قدر سچ ثابت ہو گا، دو دن بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ ہو جائے گا۔ تب تک کے لئے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.