کم عمر ترین آرٹسٹ ہونےکا عالمی ریکارڈ  

کم عمر ترین آرٹسٹ ہونےکا عالمی ریکارڈ  

مانیٹرنگ ڈیسک

اس بچے کے پہلے آرٹ ورک کو کرال( رینگنا ) کا عنوان دیا گیا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ لیئم کی ماں نے بتایاَ”میں نے فرش پر ایک کینوس پھیلایا اور اس پر پینٹ ڈال دیا، جس پر لیئم نے گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیا اور آخر کار تمام رنگ کینوس پر پھیلا دیے۔” بس یہی اس کا پہلا آرٹ ورک تھا، جسے انہوں نے کرال( رینگنا ) کا عنوان دیا۔

گھٹنوں چلتے ہوئے اس ننھے بچے نے دنیا کے سب سے کم عمر آرٹسٹ ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایس ۔ لیم انکرہ ، اگلے ماہ جولائی میں دو سال کے ہو جائیں گے۔لیئم کی ماں شنٹیل کوکوا ایگھن، جو خود بھی ایک آرٹسٹ ہیں اور گھانا کے دارالحکومت اکرا میں آرٹس اینڈ کاک ٹیلز اسٹوڈیو کی فاؤنڈر ہیں، جو ایک بار ہے جہاں پینٹنگ سکھائی جاتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اتفاقاً ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک دن جب لیئم چھ ماہ کے تھے اور میں اپنی پینٹنگز پر کام کر رہی تھی تو میں نے انہیں مصروف رکھنے کے لیے یوں ہی ایک طریقہ تلاش کیا۔”میں نے فرش پر ایک کینوس پھیلایا اور اس پر پینٹ ڈال دیا، جس پر لیئم نے گھٹنوں کے بل کرال کرنا شروع کر دیا اور آخر کار تمام رنگ کینوس پر پھیلا دیے۔” بس یہ ہی اس کا پہلا آرٹ ورک تھا، جسے انہوں نے کرال( رینگنا ) کا عنوان دیا۔

25 سالہ ایگھن نے بتایا کہ اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا۔ ننھے لیئم نے اپنی ننھی ننھی انگلیوں سے کینوس پر رنگوں سے کھیلنا شروع کیا جو آہستہ آہستہ فن کاری کے کچھ ایسے نمونوں کی تخلیق کا باعث بنا کہ ایگھن نے گزشتہ جون میں گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اسےسب سے کم عمر آرٹسٹ قرار دینے کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔

لیکن گنیز ورلڈ ریکارڈ نے انہیں بتایا کہ ان کے بیٹے کو پچھلے ریکارڈ کو توڑنے کے لیے اپنی پینٹنگز کی نمائش کرکے پینٹنگز فروخت کرنی ہوں گی۔ایگھن نے جنوری میں اکرا کے میوزیم آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں اپنے بیٹے لیئم کی پینٹنگز کی پہلی نمائش کا اہتمام کیا، جہاں ان کی پیش کی گئی 10 میں سے نو پینٹنگز فروخت ہوئیں۔ ایگھن نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ پینٹنگز کتنے میں فروخت ہوئیں۔

تاہم گنیز بک میں لیئم کے نام کے اندراج کا پراسس شروع ہو گیا۔پھر، گنیز ورلڈ ریکارڈز نے ایک بیان میں اس ریکارڈ کی تصدیق کی اور گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ "1 سال 152 دن کی عمر میں، گھانا سے تعلق رکھنے والے ننھے Ace-Liam Nana Sam Ankrah دنیا کے سب سے کم عمر مرد فن کار ہیں۔”

گنیز ورلڈ ریکارڈ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے سب سے کم عمر سابق مرد آرٹسٹ ریکارڈ ہولڈر کے بارے میں سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔اس وقت مجموعی طور پر دنیا کے کم عمر ترین آرٹسٹ ہونے کا ریکارڈ بھارت کی فن کارہ آروشی بھٹناگر کے پاس ہے۔ ان کی پینٹنگز کی پہلی نمائش اس وقت ہوئی تھی جب وہ 11 ماہ کی تھیں اور 2003 میں ان کی پہلی پینٹنگ 5,000 روپے میں فروخت ہوئی تھی۔

لیئم جن کی عمر جولائی میں 2 سال ہو جائے گی، اب بھی پینٹ کرنے سے محبت کرتے ہیں اور اپنی والدہ کے ساتھ بڑی بے تابی سے اسٹوڈیو میں جاتے ہیں جہاں صرف ان کے لیے ایک پینٹنگ کارنربنایا گیا ہے۔ایگھن نے بتایا کہ لیئم کبھی کبھی صرف پانچ منٹ کے سیشن میں پینٹنگ کرتے ہیں، اور پھر ہفتے کے باقی دنوں میں اسی کینوس پر واپس آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک روز وہ بڑے جوش و خروش سے اسٹوڈیو کے ارد گرد اسی انرجی کے ساتھ دوڑتے رہے جو کہ ان کی عمر کے لڑکوں میں روایتی طور پر ہوتی ہے۔لیکن وہ لگ بھگ ایک گھنٹہ اپنی پینٹنگ پر بھی پوری توجہ سے کام کرتے رہے، اور کینوس پر اپنے تازہ ترین آرٹ کے نمونے پر اپنی ننھی منی انگلیوں سے سبز، پیلے اور نیلے رنگ کا انتخاب کر کے آئل کلرز بکھیرتے رہے۔

ایگھن کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے عالمی ریکارڈ ہولڈر بننے کے بعد ان دونوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ لیئم کی پہلی پینٹنگ "دی کرال” فروخت نہیں کریں گی، ان کا ارادہ ہے کہ وہ اسے اپنے خاندان ہی میں رکھیں گی۔

ایگھن نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے بیٹے پر میڈیا کی توجہ دوسرے والدین کو بھی اس جانب مائل کرے گی کہ وہ اپنے بچوں کی صلاحیتوں کو دریافت کریں اور انہیں پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا لیئم پینٹنگ کرتے ہوئے پروان چڑھ رہا ہے اور یہ سب کچھ وہ کھیل کھیل میں ہی کر رہا ہے۔

اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.