عوام کا فیصلہ عنقریب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عوام کا فیصلہ عنقریب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دومہینوں سے زیادہ وقت کے دوران ملک کی 543لوک سبھا نشستوں کے لئے7 مراحل میں ہوئے انتخابات کل یعنی یکم جون شام 6بجے مکمل ہو جائیں گے۔ملک کے سب سے بڑے جمہوری ادارے کے لئے عام لوگوں نے کن اُمید واروں کو منتخب کیا ہے، اس کا حتمی فیصلہ 4جون کو ہوگا اور دیکھنا دلچسپ ہوگا کہکس سیاسی پارٹی کے سر پر حکمرانی کا تاج پہنایا جائے گا۔پورے ملک کے عوام کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کی نظریں ان نتائج پر مرکوز ہیں۔دنیا بھر میں بھارت ایک ایسا ملک ہے، جس کی جمہوریت پر عالمی سیاستدان فخر محسوس کرتے ہیںکیونکہ اس ملک میں141.72کروڑ آبادی ہے جسمیں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملکر رہتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اس ملک میں الگ الگ تہذیب وتمدن ،زبان اور ثقافت کے باوجود عام لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے رہ رہے ہیں اور یہی اس ملک کی سب سے بڑی خوبی مانی جاتی ہے، جس پر دیگر ممالک کے حکمران رشک کرتے ہیں۔گزشتہ چند برسوںسے اس ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کو زک پہنچانے کی کوشش کی گئی ،لیکن ملک کے حفاظتی اور حکومتی اداروں نے دشمن کی ان کوششوں کو ناکام بنا دیا،اب جبکہ انتخابات کا دور مکمل ہو نے کو ہے اور چار جون کو اس حولے سے نتائج سامنے آتے ہی اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیاں حکومت سازی کا دعویٰ کریں گی جو کہ جمہوری عمل کا حصہ ہے ۔بر سر اقتدار آنے والی جماعت یا جماعتوں سے وابستہ سیاستدانوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ نہ صرف لوگوں کے حقوق کی بازیابی ،تعمیر ترقی ،بنیادی سہولیات کے لئے کام کریں بلکہ عالمی سطح پر اس ملک کی جمہوری شکل وصورت کو قائم رکھنے کے لئے عملی اقدامات اُٹھائیں، تاکہ ہر ایک وہ ہندوستانی فخر سے اپنا سر اُنچا رکھ سکے، جو بیرونی ممالک میں مختلف وجوہات کی بنا پر رہائش پذیر ہیں ۔آزادی کی سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی ملک کے دیہات اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ ابھی بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔پانی ،بجلی ،طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تعلیم وتربیت کے شعبوں میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔روز گار کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے منصوبے ترتیب دینے ہونگے ،کسانوں کی ترقی اور خو شحالی کے لئے منصوبے بنانے ہوں گے، تاکہ ملک میں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار برآمد ہو سکے ،دستکاری صنعت کے فروغ کے لئے ایسی پا لیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا مال عالمی منڈیوں میں فروخت کرسکیں تب جا کر آنے والے وقت میں لوگ زیادہ سے زیادہ جمہوری عمل میں حصہ لیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.