پانی کا تحفظ ناگزیر ۔۔۔۔۔

پانی کا تحفظ ناگزیر ۔۔۔۔۔

ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی گرمی کی شدت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس بیچ عام لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ کشمیر جو کہ پورے ملک میں موسم کے اعتبار سے ایک سرد ترین علاقہ مانا جاتا ہے۔ جہاں سال کے تقریبا¾ 9مہینے سردی رہتی ہے، اس دوران یہاں بہت زیادہ بارش اور برف باری ہوتی ہے۔پہاڑی علاقوں میں برف جم جاتی ہے اور اس طرح بڑے بڑے گلیشئر وجود میں آتے ہیں اور گرمی کے ایام میں یہی گلیشئر دھیرے دھیرے پگل جاتے ہیں اور اس طرح ندی نالوں میں خوب پانی آتا ہے ،جس سے نہ صرف کھیتوں کی سینچائی ہوتی ہے بلکہ یہی پانی فلٹریشن پلانٹوں میں صاف کیا جاتا ہے اور لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔
جہاں تک اس پینے کے صاف پانی کا تعلق ہے ،یہ کھانے، پینے اورنہانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ لوگ اس پانی کا یہ سوچ کر قدر کرتے تھے کہ یہ قدرت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔وادی کے لوگوں میں اب یہ رحجان آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے ۔لوگ قدرت کی اس نعمت کو اس طرح ضائع کرتے ہیں کہ ذی حس انسان دانتوں تلے انگلی چبانے پر مجبور ہو رہا ہے۔عام لوگ اس پانی سے نہ صرف اپنی گاڑیاں ،موٹر سائیکل صاف کرتے نظر آرہے ہیں بلکہ گھروں اور دکانوں کے سامنے فٹ پاتھوں کو بھی اسی صاف پانی سے دھوتے ہیں جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔کوئی بھی انسان یہ گوارہ نہیں کرتا ہے کہ وہ اپنے سامنے سے گزر رہی ندی یا نالے سے ان چیزوں کی دھلائی کرے۔
شہری آبادی کا جہاں تک تعلق تھا وہ پرانے ایام میں کپڑے تک جہلم کے کناروں پر دھو ڈالتے تھے ،اس طرح اس جہلم کے کناروں پر چھٹی کے دن لوگوں کی قطاریں دیکھنے کو ملتی تھیں،یہی طریقہ دیہی علاقوں میں اپنایا جاتا تھا ،اب سب کچھ اس کے برعکس ہوتا ہے اور لوگ اس صاف پانی کی قدر نہیں کرتے ہیں بلکہ گھروں سے نکل رہے ،فضلہ اور کوڑا کرکٹ بھی ان ہی ندی نالوں ،دریاﺅں اور آبپاشی نہروںکے سپرد کرتے رہتے ہیں اور تو اور دیہی علاقوں میں موجود چشموں تک کو بھی ناپاک کیا جارہا ہے، جہاں سے ایک زمانے میں لوگ پینے کے لئے پانی لے جاتے تھے ۔اس پانی کی قد اُن علاقوںکے لوگوں سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے ، جو پانی کی ایک ایک بُوند کے لئے ترس رہے ہیں اور پینے کے پانی کو حاصل کرنے یا خریدنے کے لئے صبح سویرے قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ جو بھی انسان قدرت کی عطا کردہ نعمت پر شکر نہیں کرتا ہے یا ا س کی حفاظت اور قدر نہیں کرتا ہے، اُن لوگوں سے یہ نعمت چھین لی جاتی ہے۔ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلیان وادی کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود پانی کے ذخیروں ،ندی نالوں ،چشموں اور دریاﺅں کی حفاظت کریں ان کو آلودہ کرنے سے باز رہیں ۔پینے کے صاف پانی سے گاڑیاں وغیرہ دھونے سے پرہیز کریں تاکہ پینے کے پانی کی کمی محسوس نہ ہو جو آج کل ہر علاقے میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.