چری اور اسٹرابیری کا سیزن۔۔۔۔۔

چری اور اسٹرابیری کا سیزن۔۔۔۔۔

جموں کشمیر کی اقتصادی ترقی میں ایگریکلچر اور ہاٹی کلچر یعنی زراعت اور باغبانی کا انتہائی اہم رول ہے، جن کے ذریعے سے سالانہ اربوں کی آمدنی ہوتی اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کو روز گار فراہم ہورہا ہے۔موسم بہار کے بعد جو دو اہم پھل وادی میں سب سے پہلے تیار ہوتے ہیں ،اُن میں گلاس یعنی چری اور اسٹرابیری قابل ذکرہے۔آج کل ان دونوں پھلوں کو اُتارنے یا جمع کرنے کا سیزن اپنے جوبن پر ہے ۔زمیندار اپنے کھیتوں میں شدومد سے کام پے لگے ہوئے ہیں تاکہ یہ دو اہم پھل ملک کی مختلف منڈیوں تک جلد سے جلد پہنچ جائیں۔ان دو اہم پھلوں کی عمر بہت کم ہوتی ہے، اس لئے ان کو بازاروں میں پہنچانے کےلئے کسان زبردست فکر مند ہوتے ہیں کیونکہ دھیر لگنے کی صورت میں یہ پھل خراب ہو سکتے ہیں اور کسانوں کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

اگر خدا نہ خواستہ ان ایام میں تیز بارشیں یا تیز ہوا ہوتی ہے، تو بہت زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔اس لئے کسانوں کی کوشش ہو تی ہے کہ وہ ان پھلوں کو جلد سے جلد جمع کرکے مارکیٹ میں پہنچا یا جاسکے۔کیونکہ سرکاری سطح پر ان کسانوں کے لئے سرد خانوں کی کوئی سہولیت میسر نہیں ہے۔اب اگر زمیندار پرائیویٹ سرد خانوں میں ان پھلوں کو جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ سردخانوں کے مالکان کو کرایہ دینے کی طاقت یا سکت نہیں رکھتے ہیں۔پھر وہ اونچے داموں ان پھلوں کو فروخت نہیں کر پاتے ہیں ۔وادی میں سینکڑوں کی تعداد میں پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان اب اس طرح کے کام کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور مختلف سرکاری اسکیموں کا فائدہ اُٹھا کر ایگریکلچر ،ہاٹی کلچر اور فلوریکلچر کے شعبوں میں قدم رکھتے ہیں ،اس طرح وہ نہ صرف اپنے لئے روزگار کی سبیل پیدا کرتے ہیں بلکہ دیگر لوگوں کو بھی روزگار فراہم کرتے ہیں۔انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ ان محنت کش لوگوں کے مالی فائدے کے لئے وہ تمام سہولیات بہم رکھیں جن کہ انہیں واقعی ضرورت ہے۔

تمام ضلع مراکز پر ان کسانوں کے لئے جدید طرز کے سرد خانے تعمیر کرنے چاہیے ۔ہوائی سروس کے ساتھ ساتھ ایسی خصوصی گاڑیاں ضلع ہیڈ کواٹروں پر دستیاب رکھنی چاہئے ، جن میں ان کم عمر پھلوں کی حفاظت یقینی بن سکے اور ان کسانوں کے مال کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور یہ مال ملک اور بیرون ممالک کی منڈیوں میں آسانی کے ساتھ پہنچ سکے۔اس عمل سے کسانون اور باغ مالکان کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل ہو گا اور باقی لوگ بھی ان کاموں کی جانب راغب ہوسکے جو فی الحال اس طرح کے منافع بخش کاروبار کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.