ووٹ سب سے بڑا ہتھیار۔۔۔۔۔

ووٹ سب سے بڑا ہتھیار۔۔۔۔۔

ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ پانچوں مرحلے کی ووٹنگ میں جموں کشمیر کے بارہمولہ پالیمانی حلقہ انتخاب میں بھی کل ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔یہ حلقہ انتخاب اس لئے اہم مانا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدللہ ،پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون اور مقید لیڈر عوامی اتحاد کے انجینئر رشید جیسے اہم اُمید وار میدان میں ہیں۔اس پارلیمانی حلقے میں 17لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ رائے دہند گان ہیں ،جن میں مرد وخواتین کم وبیش برابر ہیں ۔ اس حلقے میں مجموعی طور پر22امیدوار میدان ہیں ،جن کی سیاسی قسمت کا فیصلہ سوموار شام چھ بجے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں قید ہوجائے گا ۔چار جون کا نتائج کا اعلان کیا جائے گا کہ کس امیدوار نے پارلیمانی حلقہ بارہمولہ کا میدان مار لیا ۔
الزامات اور جوابی الزامات کے بیچ ہفتہ کی شام اس نشست کے لئے انتخابی مہم اختتام پذیر ہوئی ۔کئی امیدواروں نے مختلف نوعیت کے خدشات کا اظہار بھی کیا ۔رائے دہند گان اب کس امیدوار کو اپنی ترجمانی کے لئے منتخب کرتے ہیں ،اس کا حق عوام نے اپنے ہاتھوں میں محفوظ کررکھا ہے ۔عوام ہی جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں اور عوام ہی فیصلہ کرتے ہیں ،پارلیمنٹ یا اسمبلی میں اُن کی ترجمانی کون کرے ۔ہر پانچ یا چھ برس یہ عمل دوہرا یا جاتا ہے اور اُن منتخب عوامی نمائندوں کو پھر عوام کے درمیان جانا پڑتا ہے ۔وہ عوام کے سامنے اپنا رپورٹ کارڈ رکھتے ہیں اور جس کا رپورٹ کامیابی سے مزین ہوتا ہے ،اُسے عوام دوبارہ منتخب کرتے ہیں اور اگر رپورٹ کارڈ ناکامی کا مظہر بیان کرتا ہو ،تو عوام بھی اپنا فیصلہ بدلتے ہیں ۔دراصل الیکشن وہ عمل ہے ،جسے جمہوریت میں عوام کی عدالت کہا جاتا ہے ۔
بہر حال کشمیر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابت میں جس طرح کی عوامی چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے وہ جمہوری عمل کا اہم حصہ مانا جاتا ہے ۔گزشتہ انتخابات کی نسبت یہ انتخابات اس لئے اہم مانے جاتے ہیں کیونکہ اب کی بار اُن لوگوں نے بھی ووٹ ڈالا ہے یا ڈالیں گے جو اس عمل کو گناہ اور قوم سے غداری کے مترادف مانتے تھے۔وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھی ووٹنگ شرح فیصد میں اضافہ کو لیکر کہا ہے کہ یہ اُن کی سرکار کی کامیابی ہے جو کہ حقیقت بھی ہے کیونکہ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے مل کر وادی میں ایسا پُر امن ماحول تیار کیا ہے کہ لوگ بنا کسی خوف و ڈر کے گھر وں سے ووٹ ڈالنے کے لئے باہر آرہے ہیں جو کہ واقعی میں جمہوریت کی کامیابی ہے جس کا سہرا موجودہ حکومت سر جاتا ہے،جنہوں نے جموں کشمیر سے دفعہ 370کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ اس ریاست کو مرکزی زیر انتظام علاقے میں تبدیل کیا ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ووٹرٹرن آوٹ میں اضافہ کو لیکر خوشی و مسرت کا اظہار کیا ہے جو وادی کے خصوصی دورے پر آئے تھے اورانہوں نے اپنے لیڈران اور ورکروں پر زور دیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات کے لئے تیار رہیں کیونکہ ان انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی اپنے اُمید وار کھڑا کرے گی۔جموں کشمیر کے پارلیمانی حلقوں سے کون اُمید وار بازی مارے گا اور کون پارلیمنٹ میں بطور ممبر داخل ہو گا، یہ چار جون کو واضح ہو جائے گا لیکن ایک بات صاف ہے کہ کشمیری عوام کو اب ووٹ کی طاقت کاا ندازہ ہو چکا ہے ۔یہی ووٹ سب سے بڑا ہتھیار ہے اسی کی بدولت سیاستدان اپنے عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کر سکتے ہیں اور اُن کے مشکلات کاازالہ کر سکتے ہیں ۔لہٰذا ووٹ ڈالنے سے پرہیز نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کا استعمال بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کرنا چاہئے،کیوں کہ ووٹ لوگوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.