حالیہ دنوں سرینگر سمیت وادی بھر میں رواں موسم سر ما کی پہلی برفباری ہوئی جبکہ مزید برفباری کی پیش گوئی ہے ۔طویل ترین خشک سالی کے بعد زمین کا تر ہونا نہ صرف اہلیان کشمیر کے لئے باعث اطمینان بخش تھا بلکہ وادی کشمیر کی سیر پر آئے سیاحوں کے لئے چہرے بھی کھل اٹھے ۔کیوں کہ وہ کشمیر برف کا ہی نظارہ دیکھنے کے لئے وارد ہوئے تھے ۔ہر خاص وعام نے برفباری ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ۔جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر رہ چکے ہیں ،غلام نبی آزاد اور اُنکی اہلیہ نے بچپن کی حسین یادوں کو یاد کرتے ہوئے اپنے صحن میں موجود برف کی چادر کو لپیٹے ہوئے برف کا گولہ بنایا ۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ،اسی طرح سوشل میڈیا پر لوگوں نے ’شین ‘ یعنی برف کی عکس بندی کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ برف کے بغیر کشمیر کا تصور کرنا ادھورا ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج دنیا کو جس سنگین مسئلے کا سامنا ہے ،وہ ہے ماحولیاتی تبدیلی جسکی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہورہی ہے ۔
آج جب ہم اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں کس قدر آلودگی پیدا ہوچکی ہے۔ہوا سے لے کر پانی تک، غذا سے لے کر مٹی و زمین تک شاید ہی کوئی چیز ہو جو آلودگی سے محفوظ ہو۔آلودگی کی وجہ سے آج ایک سنگین ماحولیاتی بحران پیداہوچکا ہے۔ یہ بحران اتنا شدید ہے کہ اس نے کرہ ارض کے مستقبل پر ہی سوالیہ نشانات لگادیے ہیں۔تاہم حیرت و استعجاب کی بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر انسان اس ماحولیاتی بحران کی زد میں ہونے کے باوجود اس سے بے خبر و غافل ہیں۔ہم اس بات سے بے خبر ہیں کہ آئندہ پانچ سالوں میں ہمارے ملک کے اکثر شہروں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی۔ماہرین کا سوال ہے کہ کیا دنیا ایک دور کی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے؟۔وہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ اگرآپ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے اتفاق کرتے ہیں تو اب وہ حد بھی پار ہوگئی ہے۔ گوٹیرس کے مطابق، دنیا گلوبل وارمنگ کے دورکوختم کر کے گلوبل بوائلنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو قدرت بھی کچھ ایسے ہی اشارے کر رہی ہے۔ ایک ہی وقت میں دنیا میں کہیں سمندرمیں طغیانی اپنے عروج پر ہے، تو کہیں سیلاب سے تباہی مچ رہی ہے، کہیں خشکی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، تو کہیں برف سے جمی ہوئی زمین گرم درجہ حرارت سے جل رہی ہے۔ سرد پہاڑوں اورسرد موسم کے لئے مشہور یورپ، امریکہ اور چین جیسے ممالک گرمی کی لہر سے جھلس رہے ہیں۔ شمالی امریکہ کی ڈیتھ ویلی میں درجہ حرارت 128 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 53.3 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔
ہندوستان کی بات کریں تو ہماچل پردیش، جموں کشمیر، اتراکھنڈ، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور راجستھان سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں سیلاب، بارش اور خشک سالی کی وجہ سے صورتحال بدتر ہوگئی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے بدلتے بر ق رفتار اوراق میں ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ماحولیات کے حوالے سے اپنے اندر شعور پیدا کریں اور آنے والی نسل کو اس حوالے سے حساس بنائیں ۔ہمیں جنگلات اورآبی ذخائر کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا جبکہ انتظامیہ کو بیداری مہم کیساتھ ساتھ ایک جامعہ پالیسی ترتیب دینی ہوگی اور ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے تغافلی اپروچ اپنانے کی بجائے سخت قوانین بنانے ہوں گے اور ان پر زمینی سطح پر عمل در آمد کو بھی یقینی بنانا ہوگا ۔





