جہاں ایک طرف یکم جنوری کو نئے سال کا پہلا دن منایا جاتا ہے۔ وہیں اس دن کو عالمی سطح پر خاندان کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔کسی بھی انسان کی پہچان ،اُس کے خاندان سے ہوتی ہے۔ مضبوط اور بہترخاندان کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ اس کے رشتے مضبوط،موثر اور بہتر اخلاق اور بلند مرتبت ہوتے ہیں۔دنیا میں ہر خاندان سے منسلک لوگ الگ الگ شکل و صورت کے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اُن کی سوچ ،کام کرنے کا ڈھنگ ،شرافت اور صداقت یکسان نظر آتی ہے کیونکہ یہ خاندانیت کا اثر ہوتا ہے ۔جہاں تک بنی نوح انسان کا تعلق ہے ،وہ ایک ہی مٹی یا خون سے بنا ہوا ہے لیکن اس مٹی کی خمیر الگ الگ ہوتی ہے جس کی بنیاد پر انسانوں کی عقل وشعور بھی مختلف ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں انسان اس خاندانیت کو غلط سمجھ بیٹھا ہے ،وہ خاندان کی بنیاد پر ایک دوسرے پر خود کو فوقیت دیتے ہیںجو لوگ اونچے خاندان یا ذات سے تعلق رکھتے ہیں وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں جو کہ حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ دنیا میں انسان عقل و شعور سے پہچانا جاتا ہے جو لوگ بُرے کام کریں گے ، وہ ہرگز اچھا نہیںہو سکتے ہیں اور جو اچھے کا م انجام دیتے رہیںگے، وہ ہرگز بُرے نہیں ہو سکتے ہیں۔جہاں تک پیغمبروں ،اوتاروں،بزرگوں اور سماج کے ذی حس لوگوں کا تعلق ہوتا ہے، وہ اس بات کو ہر گز تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ خاندان اورذات پات کی بنیاد پرکسی کو چھوٹا اور بڑا تسلیم کریں بلکہ اعمال کی بنیاد پر اور کام کرنے کے ڈھنگ پر اُس کی پہچان بن جاتی ہے۔
دنیا میں ایسے ہزارں لوگ ہیںجن میں حکمران ،سیاستدان،مولوی ،واعظ اور افسران شامل ہیں، جو زات اور خاندان کی بنا پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ،سماج میںذات پات اور خاندانیت کو عروج دیتے ہیں، جو ہرگز اچھی بات نہیں ہے ۔حکمران اکثر و بیشتر اپنے بعد اپنے اولادوں ،رشتہ داروں اور قرابت داروں کو حکمرانی کے لئے پیش کرتے ہیں،جو ہر اعتبار سے غلط ہے جس کو جمہوری نظام نے ٹھکرا دیا ہے۔اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں، آج تک یہی دیکھنے کو ملا ہے کہ باپ کے بعد بیٹا اور ماں کے بعد بیٹی کو حکومت کے اونچے منصب پر بھٹایا گیا۔خاندانی راج کی وجہ سے ایسے لوگ ہمیشہ درکنار کر دیئے گئے جن کی صلاحیت اور قابلیت سے ملک کے عوام کو فائدہ مل سکتا تھا۔بہر حال عالمی سطح پر خاندان کا دن منانا کوئی غلط کام نہیں ہے بلکہ اس کے منانے سے یہ فائدہ مل سکتا ہے کہ انسان خاندان کی مضبوطی اور پھیلاﺅ کے لئے بہتر ڈھنگ سے سماج کو سمجھا سکتا ہے کہ صحیح کیا اور غلط کیا ہے ؟۔آسانی سے خاند انوں کے بڑھے بزرگ اپنے رشتہ داروں کو خاندان میں شامل افراد پر اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں انسان رشتوں کو آگے بڑھانے کی بجائے ختم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔اکثر والدین زیادہ سے زیادہ دو بچے رکھنے پر ہی اکتفاکرتے ہیں ۔اس طرح چاچا، چاچی اور پھوپی ، ماسی کا رشتہ سکڑ تاجارہا ہے۔جبکہ خاندان بڑھنے کی بجائے کم ہو تا جارہا ہے ۔اگر واقعی ہم خاندان اور خاندانیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں ،ہمیں رشتوں کو بڑھانا چاہیے اور انسانیت کے لئے نیک اعمال کرنے ہوں گے تاکہ ایک دوسرے کی مدد ہو سکے ۔ انسان ایک دوسرے کے کام آئے اور اس طرح بہ آسانی خاند ن سے منسلک بڑے بزرگ اپنے رشتہ داروں کی مضبوطی اور منصوبہ بندی کے لئے کام کرسکیں جو کہ عالمی سطح پر خاندان کا دن منانے کا مقصدہے۔





