وادی کشمیر کی صدیوں پرانی اپنی تہذیب و تمدن ہے ،جو ہر حال میں کافی زیادہ پسندیدہ مانی جاتی ہے۔یہاں کی شرافت سادگی ،مذہبی ہم آہنگی ،آپسی بھائی چارہ بھی دنیا کے دیگر خطوں سے مختلف تھا ،ہے اور رہے گا جبکہ اس پرذی حس لوگ رشک کرتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک سے یہاں حکمران آئے اور کشمیریوں پر سالہا سال تک حکمرانی کی، اس کے باوجود بھی یہاں کی ثقافت ،تہذیب و تمدن اور زبان پرکسی قسم کی آنچ نہ آسکی ۔جہاں تک گزشتہ تین دہائیوں کا تعلق ہے ،وادی میں اس قدر تہذیبی تبدیلی آئی کہ اب پہچان کرنا مشکل ہورہا ہے کہ کون کشمیر ی اور کون غیر کشمیری ہے۔ہمارے علماءحضرات بھی اب یو پی اور بہار سے آتے ہیں جو ہمارے بچوں کو مختلف تعلیمی اداروں اور درسگاہوں میں اپنی زبان کے مطابق پڑھنے لکھنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ہمارے بچے آج کل ایسے کپڑے پہنتے ہیں اور اپنے بال اس طرح سنوارتے اوربناتے ہیں کہ پہچان کرنا مشکل ہوتا ہے ۔
جہاں تک زبان کا تعلق ہے اُس کا پوری طرح خاتمہ ہو رہا ہے۔یہاں اسلام کے داعی سینٹرل ایشیاءسے تشریف لائے ، انہوں نے گھر گھر جا کر اسلام کی دعوت دی لیکن وہ بھی یہاں کی تہذیب تمدن ،ثقافت اور زبان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے۔جہاں تک موجودہ انتظامی سطح پر کام کرنے کا تعلق ہے، وہ اس حوالے سے بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کشمیر کی تہذیب و تمدن ،زبان و ثقافت اور میراث بچانے کے لئے کئی اقدامات اُٹھائے ، ادارے قائم کئے ۔ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ جس قوم کی تہذیب و ثقافت اور زبان کا خاتمہ ہو جائے گا وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی۔جموں کشمیرمیں ٰ مختلف غیر سرکاری تنظیمیں اس حوالے سے کام کرتی ہیں لیکن پھر بھی روز بروز اس حوالے سے حالات بہتر بننے کی بجائے ابتر ہو رہے ہیں ۔جموں کشمیر کلچرل ا کیڈمی ،کالج اور یونیور سیٹیوں میں اس حوالے سے پروگرام ہورہے ہیں جن کے ذریعے کشمیری تہذیب و تمدن اور کلچر و زبان کو فروغ دےنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے، لیکن بہتر نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں ۔
اس کے لئے عام لوگ بھی بہت حد تک ذمہ دار ہیں، وہ گھروں میں اپنے بچوں کو کشمیری کی بجائے اردو اور انگریزی زبان میں بات کرنا سکھاتے ہیں۔اکثر والدین اس بات کو معیوب سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے کشمیر ی میں بات کرتے ہیں۔ عام کشمیری کو اس حوالے سے اپنا رول نبھانا ہوگا ۔اپنے پیروں پر خود کھڑا ہو ناچاہئے کیونکہ اسی قوم کی اللہ تعالیٰ بھی مدد کرتا ہے ،جو اپنی مدد کرنے کی سعی کرتے ہیں۔حکام کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ ایسے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری اداروں کو مضبوط کریں جو کشمیر ی تہذیب و تمدن اور زبان و ثقافت کو بچانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے دن رات کام کرتے ہیں۔





