میراث کی حفاظت۔۔۔۔۔۔

میراث کی حفاظت۔۔۔۔۔۔

پوری دنیا میں ثقافتی ہفتہ نہایت ہی جوش وجذبے کےساتھ منایا جارہا ہے ۔کسی بھی ملک قوم یا معاشرے میں جب تک قوم کے افراد اپنی تہذیب ،تمدن ،زبان اورثقافت کی خود حفاظت نہیں کریں گے، تب تک اُس قوم کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔جموں کشمیر میں بھی اس حوالے سے مختلف غیر سیاسی تنظیمیں اور سرکاری ثقافتی ادارے اپنی وراثت کو محفوظ کرنے کے لئے مختلف پروگرام منعقد کر رہے ہیں ۔یہاں کی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کے لئے سرکاری سطح پر بھی جموں کشمیر کلچرل اکیڈمی بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم ہے ،تاہم گزشتہ تین دہائیوں کے پُر تشدد حالات میں جہاں مختلف شعبے متاثر ہوئے ،وہیں اس کا اثر ثقافتی سرگرمیوں پر بھی دیکھنے کو ملا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان پُر تشدد ایام کے دوران اہل وادی اپنی تہذیب،ثقافت اور زبان جیسی اہم وراثت کو بچانے میں کمزور رہے۔

گزشتہ چند برسوں سے ثقافتی ادارہ جموں کشمیر کلچرل اکیڈمی اس حوالے سے متحرک نظر آر ہا ہے اور ہر علاقے میں جاکر ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کر رہا ہے جس کی بہرحال سراہانہ کرنی چاہئے۔اکیڈمی کے سیکریٹری بھارت سنگھ منہاس خود ان پروگراموں کو منعقد کرنے میں کافی زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری نئی پود اپنی تہذیب ،ثقافت اور زبان سے نابلد نظر آرہی ،اس کی کیا وجوہات اور محرکات ہیں، اس پر بحث کرنے کیبجائے ہمیں اجتماعی اور انفرادی سطح پر کام کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔

اسکولوں ،کالجوں ،یونیور سیٹیوں کے علاوہ ہمیں اپنے گھروں میں اس حوالے سے بیداری کرنی چاہئے ،اپنے بچوں کو اپنی تہذیت،ثقافت ،تمدن اور زبان جو کہ ہماری وراثت ہے، کے تحفظ کے لئے انہیں باخبر کرنا چاہیے۔

ریڈیو،ٹیلی ویثرن ،اخبارات اور رسالوں سے منسلک دانشور ،قلمکار اور صحافی اس حوالے سے ایک اہم رول ادا کرسکتے ہیں، شرط یہ کہ ان میں حب الوطنی اورقومیت کا جذبہ موجود ہو۔وادی کی اپنی پانچ سو سالہ تاریخ ہے۔

ہر دور میں یہاں کے قلمکاروں ،دانشوروں ،ادیبوں ، سخنوروں اور حکمرانوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنی تہذیبی وراثت کی حفاظت کے حوالے سے اپنا رول ادا کیا، اب یہ موجودہ دور کے اساتذہ کرام ،دانشوروں ،قلمکاروں ،صحافیوں اورذی حس افراد کی اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو

اپنی تہذیب ،تمدن اور ثقافت ووراثت کی حفاظت کے گُر سکھائیں تاکہ وہ اپنی پہنچان قائم و دائم رکھ سکیں۔وقت کے حکام اور منسلک اداروں کے سربراہان کی بھی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اُن لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں مالی و اخلاقی ہر ممکن مدد فراہم کریں جو کہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.