کشمیری صحافی فہد شاہ دو سال کے بعد ضمانت پر رہا

کشمیری صحافی فہد شاہ دو سال کے بعد ضمانت پر رہا

سری نگر: جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک ہفتہ قبل ضمانت ملنے کے بعد کشمیری صحافی فہد شاہ کو رہا کیا گیا۔خاندانی ذرائع نے بتایا کہ فہد شاہ کوبدھ کے روز جموں کے کورٹ بلوال جیل سے رہاکیا گیا اوروہ جمعرات کو اپنے گھر پہنچے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا ڈیسک نے ان کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی اشاعت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔سی پی جے ایشیا نے ایکس پر جانکاری فراہم کرتے بتایا کہ کشمیری صحافی فہد شاہ تقریباً دو سال حراست میں رہنے کے بعد جمعرات کو گھر پہنچے ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کی علمبردار تنظیم سی پی جے نے فہد شاہ کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے اور ان کے خلاف لگائے گئے سبھی الزامات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا ۔انہوں نے فہد شاہ کی نیوز پورٹل کشمیر والا پر عائد پابندی کو بھی منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔
فہد شاہ نیوزپورٹل کشمیر والا کا مدیر ہے اور امسال اگست کے مہینے میں وزارت آئی ٹی نے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعات کے تحت پورٹل کوہٹا دیا تھا۔
شاہ کو پہلی بار 4فروری 2022کو پلوامہ پولیس نے غیر قانونی سرگرمی (روک تھام)ایکٹ کے تحت گرفتارکیا تھا۔ اس پر مبینہ طورپر دہشت گردی کی تعریف کرنے، جعلی اور من گھڑت خبریں پھیلانے اور عوام لوگوں کو اکسانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
فہد شاہ کی گرفتاری کے بعد پولیس نے کہاکہ اس کے خلاف سر ی نگر اور شوپیاں اضلاع میں بھی دو ایف آئی آر درج ہیں۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی عدالت نے فہد شاہ کو امسال 26فروری کو ضمانت دی لیکن شاہ کو فوراً شوپیاں میں درج ایف آئی آر میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ مارچ کو شوپیاں کی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد سری نگر پولیس نے انہیں اورایک کیس میں حراست میں لیا۔
فہد شاہ کو بعدازاں 4اپریل 2022کو جموں میں ایک مقدمہ کے اندراج کے بعد پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی(ایس آئی اے) کے ذریعے انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔
بتادیں کہ فہد شاہ کو مضمون کی اشاعت کے تقریباً گیارہ سال بعدحراست میں لیا گیا ۔ 2011میں کشمیر والا پورٹل پر شائع مضمون کو کشمیر یونیورسٹی کے ایک اسکالر عبدل اعلیٰ فاضلی نے لکھا اور اس کی بھی گرفتاری عمل میں لائی گئ تھی۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.