سیاحوں کے الزامات ۔۔۔۔۔۔۔

سیاحوں کے الزامات ۔۔۔۔۔۔۔

وادی کشمیر کی معیشت میں محکمہ سیاحت ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ میوہ صنعت کے بعد یہی ایک شعبہ ہے جس کی بدولت اہلیان وادی اپنا روز گار کماتے ہیں۔عام دکاندار سے لیکر ہوٹل مالکان تک اور گھوڑے والے سے لیکر شکارہ والے تک لاکھوں لوگ براہ راست اس اہم شعبے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلیاں آئیں ۔کروڑوں کی تعد اد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان برسوں کے دوران وارد کشمیر ہوئے اور اس اہم صنعت سے وابستہ افراد میں ایک نئی جان پیدا ہوگئی ،جو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نہ صرف قرض کے بوجھ تلے دب چکے تھے ،بلکہ کچھ لوگ ذہنی تناﺅ کا شکار بھی ہوگئے۔
انتظامیہ نے یہاں موجود سیر و تفریح کے مقامات کی نہ صرف بہتر ڈھنگ سے دیکھ ریکھ کی بلکہ ان مقامات کو مزید خوبصورت اور دلکش بنانے کے لئے اربوں رو پے خرچ کئے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح وادی کی جانب راغب ہوسکےں، اسطرح اس صنعت سے وابستہ لاکھوں لوگوں کی غربت و افلاس دور ہو، جنہوں نے تین دہائیوں کے دوران صرف مصائب و مشکلات کا سامنا کیا۔وادی کشمیر کے دل لال چوک کو بھی سماٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت جاذب ِنظر بنانے کی کوشش کی گئی اور دریاجہلم کے کناروں کو بھی جدید طرز پر تعمیر کیا گیا تاکہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مہمان بھی لطف اندوز ہو سکیں۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سوشل میڈیا پر چند ایک ایسے ویڈیوز وائرل ہوئے جن میں سیاح حضرات مختلف محکموں کے بارے میں اپنی نارضگی کا اظہار کر رہے تھے۔ان ویڈیوز میں ایک سیاح وادی کے عوام کی خاطرتواضع اور مہمان نوازی کی تعریف کرتے نظر آئے، وہاں انہوں نے لال چوک میں موجود ایک کھلے ’مین ہول‘ میں اپنی گاڑی گرنے کے بعد صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وادی میں بہتر سڑکیں ہیں اور نہ بجلی کی دستیابی ہے جس سے بقول اُن کے پریشان ہوگئے،اسی طرح پریس کالونی سرینگر میں ایک گجراتی خاتون سیاح نے اپنی نارضگی کا یہ کہہ کر برملا اظہار کیا کہ گلمرگ کیبل کار کے دوسرے مرحلےمیں انہیں شدید سردی میں کئی روز تک مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ محکمے کو ان باتوں کا قبل از وقت خیال رکھنا چاہئے تھا کہ کسی بھی تکنیکیخرابی کی صورت میں انہیں افروٹ اور اس کے آگے والے پوائنٹ پر پھنسے سیاحوں کی ایمرجنسی کے دوران رہائش اور کھانے پینے کا انتظام رکھنا چاہئے تھا ۔
تاکہ لوگ جن میں بچے ،بزرگ اور خواتین شامل ہوتی ہیں، وہ مشکل میں نہ پڑجائیں ۔انہوں یہاں موجود دکانداروں پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے اُنہیںدو دو ہاتھوں سے لوٹ لیا۔ انتظامیہ کو تمام تر بنیادی سہولیات بہم رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور محکمہ سیاحت سے وابستہ ذمہ داروں کو اس حولے سے ایک دور رس پالیسی ترتیب دینی چا ہیے تاکہ سیاحوں کو کسی بھی مشکل کے دور ان ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کیا جا سکے،ساتھ ہی ساتھ اُنکی حفاظت اور سہولیت کے لئے ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دینا چاہیے جو سیاحتی مقامات پر دن رات گشت پر معمور رہے، کسی بھی ہنگامی صورت میں نہ صرف ان سیاحوں کی بروقت مدد ملے بلکہ ایسے دکانداروں پر بھی نظر گذر رکھیں، جو حالات کا غلط فائدہ اُٹھا کر ان سیاحوں کو لوٹتے ہیں تاکہ باہر جاکر یہ سیاح ایک اچھا پیغام دے سکےں اور اسطرح زیادہ سے زیادہ سیاح بغیر کسی رکاوٹ کے وادی آ پائیں گے ، اور اس صنعت کو حقیقی معنوں میں فروغ مل پائے گا، جو ایل جی انتظامہ کا خواب ہے، جسے وہ شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.