جی۔20 میں مودی: یرغمالیوں سے متعلق اسرائیل اور حماس کے معاہدے کا خیرمقدم، دہشت گردی کی مخالفت

جی۔20 میں مودی: یرغمالیوں سے متعلق اسرائیل اور حماس کے معاہدے کا خیرمقدم، دہشت گردی کی مخالفت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ان دونوں فریقوں کے درمیان مغرب ایشیا کے محدود علاقے میں جاری لڑائی کسی بھی قسم کی علاقائی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
مسٹر مودی جی 20 کی ہندوستان کی صدارت میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے اس فورم کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقدہ سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
اس خطاب میں انہوں نے دہشت گردی اور معصوم شہریوں کے قتل پر ہندوستان کے مضبوط موقف کا اعادہ کیا اور کہاکہ "ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی ہم سب کے لیے ناقابل قبول ہے۔ عام شہریوں کی ہلاکت جہاں بھی ہوتی ہے قابل مذمت ہے۔‘‘
واضح رہے کہ حماس کے دہشت گردوں نے، جو فلسطین کے زیر تسلط خود مختار غزہ پٹی کے اسرائیل کے علاقے میں برسراقتدار ہیں، نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ اس غیر متوقع حملے میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور حملہ آوروں نے خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا۔ ان میں کچھ غیر ملکی شہری بھی بتائے جاتے ہیں۔
عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ دنیا ایک خاندان ہے، اس احساس میں بڑی طاقت ہے جس کے ذریعے ہم امن برقرار رکھ سکتے ہیں اور دہشت گردی اور تشدد کے خلاف اپنی آواز مضبوطی سے اٹھا سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم آج ہونے والے معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام مغویوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ انسانی امداد کی بروقت اور مسلسل فراہمی ضروری ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
امید یہ ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کوئی علاقائی شکل اختیار نہ کرے۔ بحران کے بادلوں کے باوجود جو ہم آج دیکھ رہے ہیں، "ایک خاندان کے طور پر (دنیا) کا احساس ہی وہ طاقت ہے جس سے ہم امن کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ انسانی فلاح و بہبود کے نقطہ نظر سے ہم دہشت گردی اور تشدد کے خلاف اور انسانیت کے لیے اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔ آج ہندوستان دنیا اور انسانیت کی اس امید کو پورا کرنے کے لیے قدم بہ قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
مسٹر مودی نے کہاکہ "جب میں نے اس ورچوئل سمٹ کی تجویز پیش کی تھی اس وقت کوئی پیشین گوئی نہیں تھی کہ آج عالمی صورتحال کیسی ہوگی۔ پچھلے مہینوں میں نئے چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔ مغربی ایشیا کے خطے میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کی صورتحال ہم سب کے لیے تشویشناک ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہمارا اکٹھا ہونا اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہم تمام مسائل کے تئیں حساس ہیں اور ان کے حل کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی ہم سب کے لیے ناقابل قبول ہے۔ عام شہریوں کی ہلاکت جہاں بھی ہوتی ہے قابل مذمت ہے۔
انہوں نے آج کے سربراہی اجلاس میں شامل ہونے پر قائدین کا شکریہ ادا کیا۔ ملک کے 140 کروڑ عوام کی جانب سے ان کا استقبال کیا گیا۔

یواین آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.