نوجوان ذہنی تناﺅ کا شکار۔۔۔۔۔

نوجوان ذہنی تناﺅ کا شکار۔۔۔۔۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیوں پر نفسیاتی دباﺅ کم کرنے میں والدین اور اساتذہ ایک بہت بڑا رول ادا کرسکتے ہیں کیونکہ سماج کا یہ مستقبل روز بروز تاریکی کی اور بڑھتا ہی جارہا ہے۔کشمیری نوجوانمختلف بُرائیوں میں ملوث ہو کر سماج اور معاشرے کے چہرے پر بد نما داغ ثابت ہو رہے ہیں یاپھر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرکے والدین اور عزیر و اقارب کو عمر بھر کے لئے تڑپنے پر مجبور کرتے ہیں۔وادی کشمیر کا جہاں تک تعلق ہے یہاں کی پُرسکون ،خوشحال اور سیدھی سادھی زندگی پر ترقی پسند لوگ رشک کرتے تھے کیونکہ انہیں سب کچھ میسر ہونے کے باوجود ایسی پُرسکون زندگی دستیاب نہیں تھی جیسے کہ اہلیان کشمیرغربت و افلاس کے باوجود گزارتے تھے۔یہاں کے عوام کی مہمان نوازی ،انسانی ہمدردی ،بھائی چارہ ،سادگی اور شرافت کے چرچے دور دور تک سنائی دیتے تھے ۔دنیا کے بڑے بڑے شاعروں ،ادیبوں اور سخنوروں نے اس حوالے سے نہ صرف اپنے اپنے انداز میں خیالات کااظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے اس سرزمین کو کرہ ارض پر جنت کا درجہ بھی دیا ہے۔

جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے ،یہاں کے نوجواں غلط راستوں پر چل کر نہ صف اپنے وطن کی شبیہکو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کو تاریک بناتے ہیں ۔اعداد شمار کے مطابق وادی میں اس وقت 40فیصدنوجواں نشہ آور چیزوں کا استعمال کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہیں،ان میں امیر گھرانوں کے بچے زیادہ شامل ہیں۔ان باتوں سے یہ عیاں ہو رہا ہے کہ صرف غربت و افلاس یا بے روزگاری ہی ذہنی تناﺅ کا باعث نہیں ہے بلکہ اخلاقی تعلیم و تربیت کا فقدان بھی اس میں شامل ہے۔

اکثر بچے خود کشی کرتے ہیں،اس کی شرح میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔تعلیم و تربیت میں مقابلہ ،کھانے پینے کی چیزوں میں دیکھا دیکھی ،قیمتی کپڑے پہنے اور قیمتی گاڑیوں میں گھومنے پھرنے کی آرزو،اونچے اور عالی شان مکانات بنانے کی دوڑ نے بھی یہاں کے نوجوانوں کو ذہنی تناﺅ کا شکار بنایا ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بہتر اخلاقی تعلیم سے آراستہ کریں ،دیکھا دیکھی کے عالم میں جانے سے انہیں نصیحت دے کر روکا جائے اور ان بچوں کے ساتھ اچھا خاصہ وقت گزارکر ان سے ہر گھریلوں معالات میں مشورہ لیں، انہیں امتحان میں زیادہ نمبرات حاصل کرنے کے لئے دباﺅ نہ ڈالیں تاکہ وہ ذہنی مریض نہ بن جا ئیں اور کوئی ایسا قدم نہ اُٹھائیں جس سے پھر پچھتاوا ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.