جنوبی کشمیر کا گھپ کرال ترال گائوں: مٹی کے برتن بنانے والے کاریگروں کی بستی

جنوبی کشمیر کا گھپ کرال ترال گائوں: مٹی کے برتن بنانے والے کاریگروں کی بستی

سری نگر: جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے انسان کی زندگی کے تمام تر شعبے وسیع پیمانے پر تبدیل ہو رہے ہیں اور اس تبدیلی نے لوگوں کے کسی بھی قدیم پیشے کو متاثر ہوئے بغیر نہیں چھوڑا۔
دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں شمار کیا جانے والا مٹی کے برتن بنانے کا پیشہ بھی اس تبدیلی کی برق رفتار لہروں کی زد میں آکر گرچہ غرقآب ہونے کے کنارے تک پہنچ گیا ہے تاہم ابھی بھی بعض کاریگر ہمت کا کمر باندھے اس کو بچائے ہوئے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال کا گھپ کرال نامی گائوں کے مٹی کے برین بنانے والے کاریگر(کمہار) عصر حاضر میں بھی، جب کھانے پینے کے لئے استعال کئے جانے والے مختلف دھاتوں کے بنے برتنوں کی بسیار خوشنما قسموں کی بازار میں بہتات ہے، اپنے جد و اجداد کا پیشہ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
گھپ کرال کی یہ چھوٹی ہی سہی لیکن پوری بستی کمہار پیشے سے ہی وابستہ ہو کر نہ صرف اپنے عیال کا پیٹ پالتی ہے بلکہ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ و پیراستہ کرتے ہیں۔
غلام قادر نامی ایک کاریگر نے یو این آئی کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کہا: ‘یہ ہمارے جد واجداد کا پیشہ ہے، میرا باپ بھی یہی کام کرتا تھا اور میں بھی بچپن سے اسی پیشے سے وابستہ ہوکر اپنے عیال کو پالتا ہوں’۔
انہوں نے کہا: ‘ہماری پوری بستی اسی پیشے سے وابستہ ہے بلکہ پہلے یہاں کے مکین مکانوں میں نہیں غاروں میں رہتے تھے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم یہاں اپنے کارخانوں میں مختلف قسموں کے برتن تیار کرتے ہیں اور جدید طرز کے برتن اور دوسری زیبائش و آرا ئش کی چیزیں بھی تیار کی جاتی ہیں’۔
موصوف کاریگر کا کہنا ہے کہ اس پیشے سے وابستہ رہ کر گھر کے ضروری خرچہ جات کی ہی بھر پائی کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘اس کام سے صرف گھر کا خرچہ چل سکتا ہے، ہم بڑے بنگلے نہیں بنا سکتے، گاڑی نہیں خرید سکتے کیا حج پر نہیں جا سکتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اس پیشے سے وابستہ رہ کر کوئی بڑی پراپرٹی حاصل نہیں کی لیکن بچوں کا پڑھایا میرا ایک بیٹا اس وقت پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رہا ہے’۔
کمہار کے پیشے کے مستقبل کے بارے میں غلام قادر کا کہنا تھا: ‘ہمارے بچے یہ کام نہیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کو سماج میں معیوب بھی سمجھا جا رہا ہے اور اس کا کوئی اچھا مستقبل بھی نظر نہیں آر ہا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘کورونا وبا کے دوران جب ڈاکٹروں نے لوگوں کو مٹی کے برتنوں میں کھانا کھانے کا مشورہ دیا تھا تو ہمارے کاروبار بڑھ گیا تھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ گر آج بھی ایسے اقدام کئے جائیں گے تو اس پیشے کو دوام مل سکتا ہے۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ ہمارے بچے اس کام سے دور بھاگ رہے ہیں بلکہ دوسرے کام سیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ مٹی کے برتنوں میں تیار کیا جانا والا کھانا نہ صرف صحت کے لئے مفید ہے بلکہ سب سے زیادہ لذیذ بھی ہوتا ہے۔
غلام قادر کا کہنا ہے کہ یہ پیشہ کافی محنت طلب ہے۔
انہوں نے کہا: ‘مٹی کے برتن بنانے کے لئے مٹی تیار کرنا انتہائی محنت طلب کام ہے اس کو تیار کرنے میں ایک ماہ لگ جاتا ہے پھر اس مٹی سے برتن بنائے جاتے ہیں’۔
ان کا کہنا ہے: ‘میں خود ہی یہ کام کرتا ہوں میں کسی مزدور کی مدد حاصل نہیں کرتا ہوں ہاں میرے بچے میری مدد کرتے ہیں جس سے میرے کام میں سہولیت ہوجاتی ہے’۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ میں دیوالی کے پیش نظر ہم نے چرغ بھی بنائے تھے لیکن اس سال خریدار نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کے لئے کوئی خاص آرڈر نہیں ملتا ہے اگر ایسا ہوتا تو ہمارا کاروبار بھی فروغ پاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے قریب ایک ہزار چراغ بنائے تھے جن میں ست صرف چار سو فروخت ہوئے باقی یہیں پڑے ہوئے ہیں’۔
کسی حکومتی مدد کے بارے میں پوچھے جانے پر غلام قادر نے کہا: ‘حکومت جس طرح باقی پیشوں کے کاریگروں کی مدد کرتی ہے اس طرح ہماری کوئی مدد نہیئں کی جا رہی ہے’۔
انہوں نے حکومت سے اس پیشے سے وابستہ لوگوں کے لئے بھی خصوصی اسکمیں متعارف کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مدد کرے گی تو یہ پیشہ بھی اپنی شان رفتہ بحال کر سکتا ہے۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.