عالمی یوم ِ اُردو:چیلنجز ،نئے تقاضے اور5نکاتی فارمولہ

عالمی یوم ِ اُردو:چیلنجز ،نئے تقاضے اور5نکاتی فارمولہ

شوکت ساحل

سری نگراردو صحافت کا مستقبل تابناک ہے، لیکن ہمیں مسائل کا رونا رونے کی بجائے اسے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا احتساب بھی کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار جمعرات کو سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میںمتعدد سینئر وتجربہ کارصحافیوں نے عالمی یوم اردو کی مناسبت سے ’اردو صحافت کو درپیش چیلنجز‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

اس کا انعقاد انجمن اردو صحافت جموں وکشمیر نے کیا تھا۔اس تقریب کی صدارت بین الا قوامی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی یوسف جمیل نے کی جبکہ ایوانِ صدارت میں جن شخصیات نے مہمانان ِ ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی ،ان میںشعبہ صحافت کشمیر یونیورسٹی کے سابق سربراہ پروفیسر ناصر مرزا،سینئر صحافی ریاض مسرور ، شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر کشمیر یونیورسٹی ڈاکٹر راشد مقبول اورانجمن اردو صحافت جموں وکشمیر کے صدر ریاض ملک قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر راشد مقبول نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اردو صحافت کا ماتم کرنا درست نہیں کیوں کہ آج صرف اردو ہی نہیں بلکہ تمام طرح کی صحافت کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کئی لحاظ سے توآ ج اردو صحافت کا سب سے عمدہ دور ہے لیکن مواقع کا صحیح استعمال کرنا ضروری ہے جبکہ کوئی بھی زبان اسی وقت تک زندہ رہتی ہے جب وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چلے۔ انہوں نے اردوصحافت کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اردو صحافت اور صحافیوں کی شاندار تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے آج اردو میں اچھے صحافی اس لئے نہیں آرہے ہیں کیونکہ انہیں خاطر خواہ تنخواہ نہیں ملتی ہے اور سرمایہ کاری کا فقدام ہے جبکہ جو سرمایہ کاری ہوئی ،وہ ثمر آور ثابت نہیں ہوئی،جسکی کئی وجوہات ہیں۔ڈاکٹر راشد مقبول کا کہناتھا کہ آج کا دور ’آڈیو اور ویڈیو‘ کا ہے ،جبکہ سامین اور ناظرین کے وہ تقاضے نہیں ہوتے ہیں ،جو قارئین کے ہوتے ہیں ۔اردو صحافت سے وابستہ عامل صحافیوں اور آنے والے صحافیوں کو جدید تقاضوں کے عین مطابق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا جبکہ دنیا بھر میں صحافت کے تقاضے تیز رفتاری کیساتھ بدل رہے ہیں ،ایسے میں عامل صحافیوں خاص طور پر اردو صحافت سے وابستہ عامل صحافیوں کو صلاحیت سازی کے سانچے میں خود کو ڈھال کر مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حل تلاش کرنا ہوگا۔

سینئر صحافی ریاض مسرور نے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے 5نکاتی فارمولہ پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ نوجوان عامل صحافیوں کے ساتھ ساتھ اردو صحافت اور زبان کی ترقی وترویج کے لئے کام کرنے والی انجمن کو ’تعلق ،تعلم ،تربیت ،ترویج اور تحفظ ‘ کا فار مولہ اپنا کر آگے بڑھا نا چاہیے ۔ان کا کہناتھا ’اردو صحافت سے جنون کی حد تک تعلق ،اردو کی تعلیم حاصل کر نا ،مسلسل مطالعہ کر نا ،تربیت حاصل کرنا ضروری ہے جبکہ ترویج اور تحفظ یقیناً از خود ہو جائے گا ‘۔

انہوں نے کہا کہ اس میدان میں وہی آگے بڑھ سکتا ہے جس کا شوق اور مجبوری ہو ۔تاہم انہوں نے کہا کہ اردو صحافیوں کو احساس کمتری کو اپنے مزاج سے خار ج کرنا چاہیے جبکہ اردو صحافی زیادہ قابل ِقدر ہیں ۔بین الا قوامی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی یوسف جمیل نے کہا کہ اردو صحافت کو ادب کیساتھ جوڑ نے سے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ کشمیر یونیورسٹی کے سابق سربراہ پروفیسر ناصر مرزانے کہا کہ اردو صحافت میں آنے والے نوجوانوں میں جوش اور ولولہ تو ہے لیکن انہیں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عامل نوجوان صحافیوں کو صحافت کی جدید ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی عملی تربیت دینے پرزور دیا۔ان کا کہناتھا کہ صحافتی اقدار کو برقرار رکھنا بھی لازمی ہے ۔

اس موقع پر ماہر تعلیم قرة العین نے بھی اردو صحافت کے مختلف گوشوں اور در پیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔اس سے قبل انجمن اردو صحافت کی مجلس عاملہ کے سینئر رکن منوہر لال گامی نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے انجمن اردو صحافت جموں وکشمیر کے قیام اورمشن کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔

اس موقع پر سینئر صحافی طاہر محی الدین ، سینئر صحافی سید وجیہ اندرابی اورصحافت کے مدرس ڈاکٹرراشد مقبول کو اردو صحافت کے تئیں گراں اورقابل قدر خد مات انجام دینے ”خلعت اُردو صحافت ۔2023“پیش کیا گیا جبکہ مرحوم محمدےوسف قادری اور مرحوم صحافی شمیم احمد شمیم کو بعد از مرگ خلعت اردو صحافت سے نوازا گیا۔تقریب میں معروف قلمکار سلیم سالک،کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار، کے ٹی ایم ایف کے سابق جنرل سیکریٹری بشیر کنگپوش، اردو کونسل کے شبیر ماٹجی اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

انجمن اردو صحافت کے صدر ریاض ملک نے آخر میں مہمانوں اور شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انجمن اسی طرح نوجوان صحافیوں کی جہاں اہلیت سازی میں مشغول رہیں گی وہی اپنے محسنوں اور اسلاف کو بھی یاد کرتی رہے گی۔ یہ تقریب انجمن اردو صحافت جموں کشمیر کے سر پرست اعلیٰ حامد حمید کی نگرانی اور سرپرستی میں منعقد کی گئی۔انجمن اردو صحافت کی مجلس عاملہ کے سینئر رکن ناظم نذیر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.