نوجوان نسل اور ثقافت ۔۔۔۔

نوجوان نسل اور ثقافت ۔۔۔۔

کسی بھی ملک، قو م وملت کے لئے یہ بات بے حد لازمی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تہذیب ،زبان وثقافت کو زندہ رکھ کر اسکی حفاظت کرے کیونکہ ہر کسی قوم وملت یا ملک کی پہچان اور شناخت ان کی تہذیب وتمدن ،زبان اورثقافت ہوتی ہے ۔اگر ہم اپنی وادی کی جانب ایک نظر دوڑائےں تو یہ بات اخذ ہو رہی ہے کہ یہاں کے لوگ اپنی تہذیب ،تمدن، ثقافت وشرافت سے دور ہو رہے ہیں، جو حقیقی معنوں میں یہاں کے عوام کی میراث تھی ۔

تعمیر وترقی اور عوامی خوشحالی سے کسی کو انکار نہیں ہے، نہ ہی ہم موجودہ سائنسی دور سے خود کو الگ رکھ سکتے ہیں، مگر جس تیزرفتاری کےساتھ ہمارے نوجوان ،بچے ،مرد اورخواتین اپنی زبان ،تہذیب وتمدن سے دور ہو رہی ہیں، یہ واقعی غور وفکر کرنے کیلئے ایک ذی حس انسان کو مجبور کردیتا ہے کہ ہم اپنی ثقافت اور میراث سے دور ہورہے ہیں،ہم اپنی ماضی کویکسر بھول رہے ہیں ،اپنی زبان سے ہمارے بچے بے خبر ہوتے جا رہے ہیں ۔ہر ماں اور ہر باپ اس دوڑ میں لگا ہے کہ ان کا بچہ زیادہ سے زیادہ انگریزی عربی یا پھر اردو میں بات کر ے ،دنیا کی زبانیں سمجھنا یا سننا یا بولنا کوئی گناہ نہیں ہے ،نہ ہی اس بات میں کوئی عذر ہے لیکن اگر یہی بچے اپنی ماردری زبان میں با ت نہیں کرتے یا اپنے اسلاف کے کارناموں سے بے خبر ہےں ،پھر سمجھ لینا چاہیے کہ جس کشمیر یت پر ہمارے اسلاف کونازتھا ،وہ کشمیریت دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے ۔

ضروری ہے کہ ہمارے بچے ا پنی میراث ،یعنی تہذیب وتمدن ،زبان وثقافت نہ بھولیں اور اسطرح اپنے ماضی کو دیکھ کر مستقبل بہتر بنانے کی سعی کریں اور اپنی حفاظت خود کرنے کیلئے کھڑے ہو جائےں ،اسی میں کامیابی اور بہتری ہے ۔والدین ،اساتذہ اور ذی حس وباشعور افراد کو کلیدی کردار کرنا ہوگا اور ذمہ داری سے سماج کے تئیں اپنی خدمات انجام دینے ہوں گے ۔تاکہ ہماری نوجوان نسل اپنی تہذیب وتمدن کو اپنائے اور اسی راستے پر چل کر اپنی تہذیب وتمدن اور ثقافت کو زندہ وجاوید رکھ کر اپنے لئے کامیابی کا راستہ تلاش کرے جسکی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.