جدید ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت

جدید ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت

موجودہ ترقی یافتہ دور میں کوڑا کرکٹ اوردیگر ردی سے مختلف اقسام کی ضروریات زندگی کی اشیاءودیگر چیزیں تیار کی جاسکتی ہیں، صرف چاہت اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے۔وادی کشمیر کا جہاں تک تعلق ہے، یہاں روزانہ سینکڑوں ٹن کا کوڑا کرکٹ جمع ہو جاتا ہے اور لوگ اس کوڑا کرکٹ کو ندی نالوں اور چوراہوں پر پھینک دیتے ہیں۔جہاں تک مونسپل حکام کا تعلق وہ اب گھر گھر جاکر یہ کوڑا کرکٹ جمع کر کے مختلف جگہوں پر ذخیرہ یا ضائع کرتے ہیں لیکن اس کو بروئے کار لانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عمل نہیں لاتے ہیں ۔شہر سرینگر کے عید گاہ اچھن علاقے میں اس قدر کوڑا کرکٹ کے پہاڑ جمع ہو چکے ہیں کہ پورا شہر خاص اس کی بدبو سے پریشان ہے۔

جہاں تک شہر کے گردونواح والے علاقوں کا تعلق ہے، یہاں لوگ گوبر بھی سڑکوں کے کنارے پھینکتے ہیں ۔گزشتہ دنوں سرینگر میونسپل کارپوریشن اور واٹر سپلائی ماسٹر پلان ڈویژن نے اس حوالے سے ایک مشترکہ مہم کے دوران احمد نگر سے پاندچھ تک 90 فٹ سڑک کے کناروں سے درجنوں ٹرکیں گوبر جمع کرکے صفائی کی، لیکن اس گوبر کو بھی ضائعکیا گیا جب کہ اس گوبر کو بھی کھاد یا گیس میں تبدیل کیا جاسکتا تھاجیسا کہ پہلے ایام میں سرکار اس حولاے سے دیہی علاقوںمیں گوبر گیس کے پلانٹ لگانے کے لئے قرضے بھی فراہم کرتے تھے۔

جموں کے ایک دور دراز علاقے میں دیوالی کی آمد کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے گوبر سے چراغ بنائے ہیں اور اب تک ان لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں یہ چراغ فروخت کئے ،اس طرح ایک اچھی خاصی آمدنی حاصل کی۔پہلے ایام میں زمیندار اس گوبر اور انسانی فضلےکو کھاد میں تبدیل کرکے استعمال کرتے تھے ۔اس کھاد سے نہ صرف فصل کی پیداوار میں اضافہ ہو رہاتھا بلکہ ماہرین صحت اس کھاد کو صحت کے لئے مفید بھی مانتے ہیں لیکن جو ہی بازاروں میں مختلف قسم کی کیمیائی کھادیں متعارف ہوئیں، تو زمینداروں نے بھی گھریلوں کھادوں کا استعمال کرنا بند کیا۔اب وہ گھروں سے نکل رہے ،بول و براز کو نہ صرف سڑکوں اور چوراہوں پر ڈال دیتے ہیں بلکہ اس گندگی کو براہ راست پانی کے حوالے کردیتے ہیں ۔

آج دیہی علاقوں میں پانی اس قدر گندہ ہو چکا ہے کہ اس کے استعمال کرنے سے بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں۔سرینگر مونسپل کارپوریشن نے اگر چہ جمع شدہ کو ڑا کرکٹ کو الگ الگ کرنے اور جدید مشینوں کے ذریعے اس کو ٹھکانے لگانے کی مہم شروع کی تھی لیکن یہ کام بھی نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر دھیمی پڑ گئی۔اگر واقعی سرکار اور انتظامیہ وادی کو صاف و شفاف رکھنے میں یقین رکھتی ہے تو پھر انہیں گھروںسے نکل رہے کو ڑے کرکٹ کو بہتر ڈھنگ سے ٹھکانے لگانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لانا چاہئے اور دیہی علاقوں سے برآمد ہو رہے گوبر کو استعمال میں لانے کے لئے اسیکیمیں مرتب کرنی چاہیے تاکہ لوگ ان اسکیموں سے فائدہ بھی اٹھا سکیں اور وادی میںماحول بھی کثافت سے پاک رہے جبکہ گندگی اور غلازت سے نجات بھیملے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.