عالمی یوم ِ بصارت

عالمی یوم ِ بصارت

پوری دنیا میں بصارت کا عالمی دن منایا گیا ۔ہمارے ملک میں بھی اس حوالے سے تقریبات منعقد کی گئیںاور آنکھوں کی روشنی سے محروم لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے مختلف میڈیکل کیمپوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے اعداد و شمار کے مطابق اس ملک میں اب تک بصارت سے محروم افراد کی تعداد 1کروڑ 80لاکھ کے لگ بھگ ہے۔کچھ لوگ پیدائشی طور آنکھوں کی روشنی سے محروم ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی لاپروائی اور غیر ذمہ داری سے ان نعمت سے محروم ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب سے کمپیوٹر اور موبائل فون عام ہو چکے ہیں تب سے لوگوں کی بینائی میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں دنیا میں عطا کی ہیں ،ان کا شمار کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

اگر صرف انسانی جسم پر ایک نظر ڈالیں تو یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہے۔انسان کے اعضاءایک نظام کے تحت بنائے گئے ہیں، ان کی قد ر قیمت وہ انسان جانتا ہے جو کسی ایک نعمت سے محروم ہے۔بہر حال ہم یہاں صرف انسان کی آنکھوں کی بات کرتے ہیں جس سے انسان دنیا کی تمام نعمتوں کو دیکھ سکتا ہے ۔جس انسان کے پاس آنکھوں کی روشنی نہیں ہو تی ہے وہ دنیا کو دیکھ نہیں پاتا ہے کہ قدرت نے یہ دنیا کس قدر حسین اور پُر بہار بنائی ہے۔ان آنکھوں کی حفاظت کرنے میں موجودہ دور کا انسان لعت و لعل سے کام لے رہا ہے ۔

دن رات کمپیوٹر اور موبائیل فون پر لگا رہتا ہے اور آنکھوں کی روشنی کا کوئی خیال نہیں کرتا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ دور کے انسان کو ان چیزوں کی ضرورت ہے لیکن حد سے زیادہ ان کا فضول استعمال انسان کی بینائی اثر انداز کر سکتاہے، خیر جوان اور بزرگ کسی حد تک ان چیزوں کے استعمال کرنے کے لئے مجبور ہیں لیکن چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں والدین فون تھما کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں ۔دیکھا جائے تو چھوٹے بچوں کی لائین ڈاکٹروں کے پاس علاج کی غرض سے لگی رہتی ہے۔

یہ بھی مشاہدے میں آرہا ہے کہ چھوٹے بچے عینک پہنے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں ۔آنکھوں کی روشنی کی حفاظت نہ کرنے سے ہم قدرت کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہیں ۔ہمیں جسم کے باقی اعضاءکی طرح آنکھوں کی ورزش بھی کرنی چاہئے ،دن میںکئی مرتبہ آنکھوں کو اُدھر ادھر پھیرنا چاہئے اور اپنی انگلیوں سے دن میں دو چار بار آنکھیں ملنا چاہئے تاکہ ان کے ارد گرد نسوں کی ورزش ہو جائے اور خون بہتر ڈھنگ سے بنا کسی رکاوٹ کے اپنی منزل پر پہنچ سکے۔یہاں ان باتوں کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے کہ ہم اپنے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون نہ دیں،انہیں کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن کی اسکرین سے دور رکھیں تاکہ ان کی بینائی محفوظ رہ سکے ساتھ ہی ساتھ ایسے افرد کی دلجوئی اور مدد کریں جو بینائی سے محروم ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.