جمہوری ریاستیں وہی مثالی اور نمونہ عمل بن پاتی ہیں جن میں عوام کو اپنی رائے دستور کے مطابق رکھنے، ضمیر وعقیدہ اور فکر و نظر کی آ زادی کا پورا اختیارہو۔ جو جمہوری معاشرے انسانی حقوق کی درج بالا اہم اقدار سے عاری ہوں یا ان کے اندر صرف منصب وجاہ کی ہوس ہو تو ان کا کردار اور رویہ عوام کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔
قوت اور اقتدار کے نشہ میں عوام کی فلاح وبہبود اور آ ئینی آ زادی کا خیال نہ رکھنا، اسی طرح جمہوریت میں اقلیتی طبقات کے ساتھ کسی بھی طرح کا بھید بھاو کرنا یا ان کے دینی،معاشی، سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کو غیر یقینی بنایا جانا، یہ سب وہ باتیں ہیں جو جمہوری معاشروں اور حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں۔ لہٰذا جمہوری ریاستوں کی اولین ذمہ داری اور ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات یا تنقید کو نہ صرف برداشت کریں بلکہ ایسا ماحول بھی تیار کریں جس سے عوام کو حکومتوں اور ان کی منفی پالیسیوں پر کھل کر اظہار رائے کرنے کی آ زادی حاصل ہو۔ یہ بھی سچ ہے کہ حکومتوں کی جانب دار یا غیرشعوری پالیسیوں پر آواز اٹھانے سے عام و خواص کے اندر حکومت کا اعتماد و بھروسہ بحال ہوتا ہے۔
ایسے اداروں،جماعتوں اور حکومتوں کو انسانیت نواز اور ہمدرد و انسان دوست جیسی صفات سے یاد کیا جاتا ہے۔ حکومتوں اور عوام کا رشتہ اس وقت کمزور تر ہوتا ہے جب حکومتیں عوام کے جائز اور بنیادی مطالبات کی بابت ا ٹھائی جانے والی آ واز کو دبانے کی سعی کرتی ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب عوام اور اس کے حقوق کی پامالی جمہوری نظاموں یا غیر جمہوری معاشروں میں ہوئی ہے تو عوام کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو اپنا بوریا بسترا تک سمیٹنا پڑ گیا ہے۔
معاشرتی استحکام اور جمہوری قدروں کی عظمت کو دوبالا کرنے کے لیے لازمی طور پر حکومتوں کو عوام الناس کے حقوق کی بازیابی کرنی ہوگی۔ تبھی جاکر ایک صحتمند اور فلاحی ریاست کا وجود عمل میں آ سکتا ہے۔ مگر ہم حالیہ برسوں میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں، اس نے عوام کے اندر خوف، بے چینی اور کرب پیدا کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب حکومتیں عوام کی جانب سے کی جانے والی تنقید اور سوال پر برہم ہوجاتی ہیں۔ حق و انصاف کی بات کرنے والے اداروں، جماعتوں،افراد اور شخصیات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔
جو یقینا کسی بھی جمہوری نظام کے لیے موزوں نہیں ہے۔ یہ صورتحال صرف سیاسی ایوانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تعلیمی اداروں اور تنظیموں میں بھی بہت حدتک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ اس کا مشاہدہ آ ئے دن ہم اپنے سماج میں کرتے رہتے ہیں۔ سربراہ یا ادارہ کے خود ساختہ اصولوں اور محدود مفادات کے خلاف کوئی بات کہنے کو بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی غیرمنطقی پالیسی یا نظریہ کے خلاف لب کشائی کرنا جرم کے مترادف گردانا جاتا ہے۔
حتیٰ کہ تعلیمی اداروں کی صورتحال تو یہاں تک خراب ہوچکی ہے کہ اگر کوئی طالب علم اپنے استاد یا ادارے کے سربراہ سے سوال کر لیتا ہے تو اس کو ذاتی سمجھ کر اپنی توہین محسوس کرتاہے اور اس سے بدلہ لینے کے لیے ہرممکن کوشش کی جاتی ہے۔ضروری ہے کہ تنقید برائے تعمیر اور تعمیری بحث ومباحثے کو موقع فراہم کیاجائے ۔تاکہ جو بد اعتمادی اس وقت سماج میں پائی جارہی ہے ،وہ دور ہو ۔





