جموں کشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہونے میں اگر چہ ابھی ایک ماہ باقی ہے، لیکن اس حوالے سے تمام انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے، یاتریوں کی حفاطت اور بہتر خدمات کےلئے تمام تیاریاں کی جارہی ہیں۔اس ملک میں یہی خوبی ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے مذہبی فرائض بغیر کسی خوف و ڈر کے انجام دے رہا ہے ۔
ایک طرف جہاں سفر محمود پر جانے والے زائیرین کی سہولیات کے لئے تمام قسم کی تیاریاں کی گئی ہیں اور کل سے باضابطہ طور پہلی پرواز کو سرینگر ہوائی اڈے سے انتظامی افسران حاجیوں کے پہلے گروپ کو روانہ کریں گے، وہیں جموں کے بھگوتی نگر سے امرناتھ یاترا کا پہلاگروپ بھی انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ رخصت کیا جائے گا۔ان مذہنی فرائض کی انجام دہی کے لئے ہر وابستہ محکمے کے ذمہ دار افسر ان اپنی نیندیں حرام کر کے بغیر کسی تعصب کے دن رات اپنا کام تن دہی ،لگن اور خوش اسلوبی کے ساتھانجام دے رہے ہیں ۔گزشتہ روز محکمہ اطلات سرینگر کے دفتر میں جوائنٹ ڈائریکٹر محمد اسلم کی سربراہی میں ملازمین کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس کے دوران یاترا سے متعلق اطلات اور خبریں براہ راست منظر عام پر لانے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔جہاں تک رواں برس حج کا تعلق ہے ،اس کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔
حج فارم داخل کرنے سے قبل حکام نے کہا تھا کہ امسال حج کم قیمت پر ہوگا۔جموں کشمیر حج کمیٹی کی چیئر پرسن سفینہ بیگ نے بھی اس حوالے سے ایک پرس کانفرنس میں باضاطہ اعلان کیا تھا۔بہر حال اس معاملے میں سعودی حکومت کا بھی عمل دخل ہو تا ہے، اس لئے اس میں وقت وقت پر تبدیلیاں ہونا کوئی سرکاری یا انتظامی غلطی نہیں مانی جاسکتی ہے۔اس کے برعکس امرناتھ یاتراملک کا اندورنی معاملہ ہے جس سے متعلق انتظامیہ بہتر سے بہتر اقدامات اُٹھا سکتی ہے۔
حج سے متعلق مرکزی حکومت سعودی عرب میں بہتر انتظامات کرسکتی ہے۔حجاج کرام کو سہولیت کے لئے منا،مکہ مکرمہ ،عرفات اور مزطلفہ میں رضا کاررکھتے ہیں ،مگر بعد میں وہ وہاں نظرنہیں آتے ہیں ،بہتر ڈاکٹراور دیگر طبی عملے کو متحرک رکھنا چاہیے، تاکہ حجاج کرام کو کسی قسم کی مشکلات درپیش نہ آئےں۔ججاج کرام کو بھی اپنے ارد گرد موجودساتھیوں کو کسی بھی قسم کی دشواری میں مدد کرنی چاہیے۔جس طرح امر ناتھ یاترا کے دوران وادی کے عام لوگ یاتریوں کی حفاظت ،سہولیت اور آسان یاترا کے لئے اپنی پوری طاقت دل کھول کر لگا دیتے ہیں ۔ ایسا کسی بیروانی ملک میں ممکن نہیں ہے ۔
بہر حال دونوں مذاہب کے لوگ اپنے اپنے نظریہ کے مطابق ان مذہبی فرائض کو انتہائی اہم روحانی سفر مانتے ہیں ،لہٰذا دونوں مذاہب کے لوگوں کو ملک کی ترقی ،خوشحالی امن اور سلامتی کے لئے دعا کرنی چاہئے کیونکہ ملک کی ترقی ،خوشحالی اور سلامتی میں ہی لوگوں کی ترقی،خوشحالی اور سلامتی مضمر ہے۔





