جموں کشمےر مےں” اےپل کانفرنس “منعقد کی جارہی ہے اور اس دن وادی کے سےبوں سے متعلق بات کی جائے گی اور باغ مالکان درپےش مشکلات اور ملک کی مختلف رےاستوں کو ےہاں سے بھےجئے جارہے ہیں۔سےب ٹرکوں کو سرےنگر۔جموں قومی سڑک پر چلنے کو اولےن ترجےح دےنے جےسے معاملات پر تبادلہ خےال کرنے کی بات اےڈیشنل چف سےکرےٹری نے تسلےم کی۔اس بات کا اظہار سوپور فروٹ گروورس کے صدر نے اےک اخباری بےان مں کہی ۔ اس بات سے کسی کو بھی انکار نہےں ہے کہ اس وادی کی آمدنی کا دارومدار صرف شعبہ سےاحت،شعبہ باغبانی اور شعبہ اےگریکلچر پر ہے۔سےاحوں کی اچھی خاصی آمد اور بہتر پھلوں کی پےداوار سے ہی وادی کے اکثرلوگ اچھا خاصہ روزگار کماتے ہیں ۔بارےک بےنی سے اگر دےکھا جائے گزشتہ کئی برسوں سے وادی کے باغ مالکان اور مےوہ صنعت سے وابستہ لوگوں کو کافی زےادہ نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔اےک طرف موسم کی قہر سامانی نے ان کسانوں کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دےا اور دوسری جانب جموں سرےنگر سڑک پر جاری کام نے رہی سہی کسر نکال دی۔
گزشتہ برسوں کے دوران ےہ بات مشاہدے مےں آگئی کہ جب بھی سرےنگر جموں قومی سڑک بند ہوتی تھی اور ٹرےفک آمددرفت کےلئے دوبارہ کھولنے پر سب سے پہلے سبزےوں اور دےگر چےزوں سے بری گاڑےوں کو ترجیحی بنےادوں پر چھوڑا گےا جبکہ صرف سےبوں سے بری گاڑےوں کو کئی کئی روز تک انتظار کرنا پڑا،اس طرح ان گاڑےوں مےں موجود سےب منڈےوں تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہوگئے اور بےوپاری حضرات کو ےہ سےب سستے داموں خرےدنے کے لئے مجبور ہوگئے اور وہ فائدے کی بجائے نقصان سے دوچار ہوگئے۔ےہاں ےہ بات بھی مشاہدے مں آرہی ہے کہ ملک مےں اےرانی سےبوں کی درآمد نے بھی کشمےری سےبوں کے مارکےٹ کو خراب کےا۔اُن کا رنگ اگر چہ کشمےری سےبوں سے اچھا ہے ،تاہم جہاں تک مزے کی بات ہے کشمےری سےب کا مقابلہ کسی اور ملک کا سےب نہےں کرسکتا ہے۔بہرحال اگر چہ وادی اس صنعت کو ختم کرنے کے لئے کئی وجوہات ہےں، لےکن باغ مالکان کو کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنے باغوں کے لئے بہتر ادوےات کا استعمال کرےں ،درجہ بندی کے دوران صرف اچھے سےب ہی پےٹےوں مےں بھر دےں، محکمے کے ذمہ دار وںکی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اس صنعت کو فائدہ مند بنانے کے لئے کار گر انتظامات اُٹھائےں اور بارمولہ سے ملک کے ساتھ ملانی والی رےل سروس چالو ہونے کے ساتھ ہی مال بردرار رےل سروس کا بھی اہتمام زےر غور رکھےں، تاکہ وادی سے ملک کی تمام منڈےوں تک بہ آسانی کشمےری مےوہ بغےر کسی رکاوٹ کے پہنچ سکے۔





