خو ب فائدہ ملے گا

خو ب فائدہ ملے گا

سُنا ہے کہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر ماسک پہننا پھر ایک بار لازمی قرار دیا گیا ہے کیونکہ کورونا کال نے پھر ایک بار دمال مچا دی ہے۔ اکثر علاقوں میں کورونا کے مریض پائے جاتے ہیں ۔

احتیاط کرنا اچھی بات ہے کیونکہ دو برس قبل جس طرح کورونا وباءنے ملک کے لوگوں کا مال وجان تباہ کیا ہے، اُسے اللہ ہر ایک ملک کو بچائیں ۔

جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے یہاں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں مختلف ریاستوں کے سیاح موجودہ ہیں اسکے علاوہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں یاتری بھی آرہے ہیں جن کے بیس کیمپ پہلگام اور بال تل میں ہیں ،جہاں اُ نکی حفاظت پر مامور ہزاروں پولیس ودیگر فورسز اہلکاروں کے علاوہ مختلف محکموں سے وابستہ ملازمین شامل ہیں، علاوہ ازیں یہاں مزدور اور گھوڑے بان بھی ہیں ۔

اِدھر وادی میں ہزاروں شادیاں بھی ہیں جہاں لوگ بغیر کسی احتیاط کے خوب وازوان کھاتے ہیں، ان حالات میں ماسک پہننے کا حکم نامہ صادر کرنا معنی نہیں رکھتا ہے ۔

سوائے اسکے کہ ماسک فروخت کرنے والوں کو خوب فائدے ملے گا ۔جہلم کے کنارے اسی بات پر دو کشمیری آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور ہم نے تحریر کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.