کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں

کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں

یہ محاورہ انتہائی مشہور ہے اور ہر زبان پر ہمیشہ رہتا ہے ”سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے “ سچائی ہر صورت اور ہر حال میں سامنے آہی جاتی ہے۔ چاہے انسان کتنا بھی اس کو چھپانے کی کوشش کریں ۔

اصل میں آج جو بات ہم اپنے قارئین حضرات سے مخاطب ہو کر کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ آج کل جموں وکشمیر خاصکر وادی میں انتخابی بخار کی شروعات ہونے لگی ہے ۔ہر انسان کی زبان پر یہ بات ہے کہ اب یاترا ختم ہوتے ہی انتخابات کا اعلان ہو جائے گا ۔

کون کہتا ہے کہ نہیں ہونے چاہیے یہ تو عوامی مفاد میں ہوتے ہیں۔ لوگ خود اپنے ووٹ سے اپنے نمائندے چُن لیتے ہیں اور اپنا دکھ درد اُن کے ساتھ بانٹ دیتے ہیں ۔

اپنے روزمرہ کے مسائل پانی ،بجلی ،سڑک اور دیگر کام ان ہی نمائندوں کے زریعے سے کرواتے ہیں اور ویسے بھی جمہوری نظام میں انتخابات کی خاص اہمیت ہوتی ہے اور یہی انتخابات جمہوریت کی روح اور پہچان ہے ۔

جہاں تک جموں وکشمیر خاصکر وادی کے عوام کا تعلق ہے، انہیں ہمیشہ سے انتخابات سے نقصان پہنچ چکا ہے کیونکہ یہی انتخابات جموں وکشمیر میں فتنہ وفسادات کے باعث بن گئے۔

1987ءمیں این سی اور کانگریس نے ملکر انتخابات میں دھاندلیاں کر کے نوجوانوں کو غلط راستے پر جانے کیلئے مجبور کیا ۔

اسطرح ان جذباتی نوجوانوں کو ہمسایہ ملک نے غلط استعمال کر کے اُن کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمادئیے اور اسطرح یہاں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ازجان ہو گئے جن میں خاص وعام ،سیکورٹی اہلکار ،فوجی وپولیس افسران ،انجینئر ،ڈاکٹر اور عالم حضرات بھی نہیں بچ پائے ۔

رہا سوال انتخابات میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام ہو گا؟ وہ انتخابی نتائج کے بعد ہی پتہ چلے گا، لیکن ایک بات تجزیہ میں آتی ہے کہ بی جے پی کوئی خاص مقام وادی میں حاصل نہیں کر پائے گی کیونکہ انہوں نے جس طرح پالیسیاں عملائی ہیں، ان سے اس پارٹی کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ کشمیری لوگ جذباتی ہیں اور عقل وشعور سے کبھی کام نہیں لیتے ہیں ،اسطرح پھر وہی پرانی شراب نئی بوتلوں میں فروخت ہو جائے گی جو شاید ہر ایک کیلئے مضر صحت ثابت ہو سکتی ہے ۔

یہاں کے لوگوں کو پرکھنا ناممکن ہے کیونکہ وہ جس کے سامنے جاتے ہیں ،اُسی کے گیت گاتے ہیں مگر کرتے وہ ہے، جو کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.