دل جڑنے جائے

دل جڑنے جائے

اس وادی کی ریت بھی نرالی ہے، یہاں آرتی کی تھالی لیکر حجاج کرام کا استقبال ائیر پورٹ پر کیا جارہا ہے ۔حجاج کرام کی عزت واحترام کرنا لازمی ہے کیونکہ وہ ایک مقدس سفر سے واپس آئے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ حج کر کے مسلمان بچے کی مانند ہوتا ہے، جو گناہوں سے صا ف وپاک ہوتا ہے ۔

ہندو دھرم کے مطابق بچہ بھگوان کا روپ ہوتا ہے ۔اس لئے ان حجاج کا استقبال کرنا ضرور ی بن جاتا ہے مگر جس طرح روایتی ونون اور آرتی ائیرپورٹ پر کی جاتی تھی، اُس سے حیرت ہوتی تھی کیونکہ استقبال کرنے والے کشمیری پنڈت اور مسلمان دونوں تھے ۔

ایک طرف یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وادی میں مسلمانوں نے یہاں کی پنڈت برادری کو مجبور کر کے بھگادیا ہے، دوسری جانب اس طرح کے ڈرامے کئے جاتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کا ہندوہویا مسلمان یہ ہر دور میں دشمنوں کی چالو ں سے کمزور ہو گیا ہے جبکہ ایک دوسرے کےخلاف ہمیشہ نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔جس کا مقابلہ ڈرامہ بازی سے نہیں بلکہ دل جوڑنے سے ہو سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.