انتخابی عمل ضروری لیکن ۔۔۔؟

انتخابی عمل ضروری لیکن ۔۔۔؟

جموں وکشمیر میں لگ بھگ تین سال کے مرکزی رول کے بعد انتخابی دنگل شروع ہونے کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے الیکشن کمیشن نے نومبر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کا من بنالیا ہے او ر اس حوالے سے ریٹرنگ اور اسسٹنٹ ریٹرنگ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ووٹر فہرست کی جانچ مقررہ وقت کے اندر اندر مکمل کریں تاکہ ہر ایک ووٹر کو اپنی رائے دینے کا بھرپور موقع مل سکے ۔

جمہوری ملک میں انتخابات ہی ایک اہم دستوری عمل ہوتاہے جس کی بدولت عام لوگ اپنی حکومت خود قائم کرتے ہیں اور اپنے چنے ہوئے نمائندو ں کے ذریعے سے اپنے روزمرہ کے کام کاج کرواتے ہیں ۔

اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عوامی حکومت کی بجائے گورنر رول یا صدرراج میں زیادہ تر عوامی خدمت ہوتی ہے اور یکساںبنیادوں پر ہر شہری کیلئے بنیادی ضروریات کی چیزیں سڑک ،پانی ،بجلی ،راشن اور روزگار فراہم ہوتا ہے، اسکے برعکس عوامی حکومتوں میں وزیروں ،مشیروں اور سیاسی ورکروں کو ہی زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو تاہے، اسکی واضع مثال گزشتہ 3برسوں کے دوران ہوئے کام کاج سے ملتی ہے ۔

گزشتہ 3برسوں کے دوران درجنوں نئے کالج جموں وکشمیر میں بنائے گئے ،درجنوں مرکزی اسکیمو ں نے یہاں کے عام لوگوں کو براہ راست فائدہ مل گیا ہے ،کسانوں کے کھاتو ں میں بغیر کسی سفار ش اور اثر ورسوخ کے روپے جمع ہوجاتے ہیں ،بغیر کسی سفارش کے لوگ مختلف محکموں میں بھرتی ہوئے ،اسکے برعکس عوامی حکومتوں میں زیادہ تر لوگ سفارشوں کی بنیاد پر بھرتی ہوتے ہیں ،خواہ وہ جے کے بینک ہو یا کوئی اور سرکاری محکمہ ۔

اسی طرح قرضے بھی صرف اثر ورسوخ رکھنے والوں کو ہی ملتے تھے ۔بہرحال انتخابی عمل جمہوری نظام میں ایک اہم حصہ ہے جن کو ہرگز روکا نہیں جا سکتا ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اسمبلی ممبران ،وزیروں اور مشیروں کو قانون وحق انصاف کا پابند بنایا جانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ عام لوگوں کا بھلا ہو سکے، ورنہ انتخابات سے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

جیسا کہ لالہ دید کا مشہور شعر ہے ۔ہنڈ مارتن یا ہُس ،لالہ نلہ وٹ ژلہ نہ زائنہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.