حج کی تعلیمات

حج کی تعلیمات

دُنیا کے سب سے بڑے مسلم مرکز یعنی مکہ مکرمہ میں آج عید الاضحی کی مقدس تقریب منعقد ہو رہی ہے، جہاں لاکھوں لوگ نماز عید میدان عرفات میں ادا کرینگے اور خطبہ عید سے فراز ہوں گے ۔

3سال کے دوران حج اس طرح اجتماعی طور ادا نہیں کیاگیا کیونکہ مہلک کورونا وباءنے جس طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا، اُن حالات میں یہ ہرگز ممکن نہیں تھا کہ لاکھوں لوگ ایک جگہ جمع ہو کر اس طرح کا اجتماع منعقد کرسکےں۔لہٰذا سعودی حکمرانوں نے بھی کسی بھی غیر ملکی شخص کو حج پر آنے کی اجازت نہیں دی ۔

یہ اجتماع جہاں دُنیا بھر کے مسلمانو ں کو متحد ومنظم ہونے کی ترغیب دے رہا ہے وہیں اخوت ،مساوات اور بھائی چارے کا درس بھی مل رہا ہے ۔

یہاں ہر انسان ایک ہی کپڑا پہن کر ایک ہی صف میں کھڑا ہوتا ہے اور ہر انسان دن رات میدان عرفات میں ایک جیسی حالت میں گذارتا ہے ۔

دنیا بھر میں جو اس وقت اونچ نیچ ،ذات پات ،امیری وغربت کی دیواریں بنی نواع انسان کے درمیان کھڑی ہوئی ہیں، حج اس بات کا صاف انکار کرتا ہے، اسطرح یکسوی اور مساوات کا راستہ فراہم کرتا ہے ۔

جہاں تک پیغمبر اسلام حضرت ابراہیم ؑ کا تعلق ہے یہ اُن کی یاد تازہ کردیتا ہے جنہوں نے حکم الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کر کے اپنے خوبصورت اور لاڈلے بیٹے کو قربان کرنے سے گریز نہیں کیا اور اسطرح رہتی دنیا تک ایک ایسی مثال قائم کی جیسی کوئی اور مثال دنیا میں نہیں ملتی ہے۔

حج اصل میں نفسانی خواہشات سے پرہیز کرنا سکھاتا ہے ،ایک دوسرے کےساتھ یکسوئی اور ہمدردی کا سبق دیتا ہے ۔دنیا سے دور رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو موجودہ دور کے انسان کے رگ رگ میں پیوست ہے ۔اس دنیا پرستی ،مال وجائیداد اور عیش وآرام کی غرض سے ایک انسان دوسرے انسان کا خون بہا دیتا ہے ،ایکد وسرے کا حق مارتا ہے اور اسطرح انصاف کا سرقلم کر دیتا ہے ۔

اگر واقعی موجودہ زمانے کے حکمرانوں ،بادشاہوں ،سرمایہ دارو ں اور انتظامی عہدیداروں کو ہر انصاف فراہم کا زرابھر بھی دلچسپی ہے ،تو انہیں ان مقدس تعلیمات سے سبق لینا چاہیے تاکہ ہر انسان خوشحال رہ سکے اور ہر ایک کو برابر انصاف مل سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.