معاشرتی بگاڑ اور ہماری ذمہ داریاں

معاشرتی بگاڑ اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر:شوکت ساحل

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر خلقت کے مقاصد اور انسانی کی اجتماعی زندگی کے ناقابل انکار پہلو کو ملحوظ نظر رکھا جائے، ایک مثالی معاشرے کی ضرورت خودبخود عیاںہوجاتی ہے ۔

فکر گاہ میں نہ صرف ایک انسانی معاشرے کی ضرورت پر ہی زوردیا گیا ہے بلکہ ایک صالح اورمثالی معاشرے کے تشکیل پربھی کافی تاکید کی گئی ہے ۔

معاشرے میں بحرانوں اور بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ تربیت کی کمی ہے۔ چاہے تربیت والدین کی طرف سے ہو یا ہمارے تعلیمی نظام اور اداروں کی طرف سے لیکن اس تربیت کی کمی کی وجہ سے انسان کے اندر اور باہر خطرناک اخلاقی بحران پیدا ہوتے ہیں اور انسان انسانیت کے مرتبے اور منصب سے گر کر حیوانوں سے بھی برتر ہوتا جاتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر روز چڑھتا سورج مسائل ومشکلات اور نئے نئے چیلنجز کی ایک نئی داستان لے کر آجاتا ہے۔

آئے روز زیادتی کی وارداتیں، مسلح حملے، جائیداد کے تنازعے پر قتل، چوری ڈکیتی سمیت ان گنت واقعات ہماری اخلاقی گراو¿ٹ پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔لیکن یہ بات یکدم ہم بھول جاتے ہیں کہ آج اس پر مشکلات کی باری آئی ہے تو کل ہم پر بھی آسکتی ہے۔ اس سماج میں بیٹھے شاید سارے لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں پر کس کو اس بگاڑ کی وجہ معلوم کرنے میں شاید ہی کوئی دلچسپی ہو۔سب کو بس مجرموں کو سزا دینے کی پڑی ہوتی مگر اس بگاڑ اور انسان کے جانور بننے کی وجوہات کا نفسیاتی جائزہ لینے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔کیا کسی وقوعے ہے بعد مجرموں کو صرف سزا دینا ہی معاملے کا حل ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو آج تک یہاں حالات کافی سنور جانے چاہیے تھے۔ لیک ایسا نہیں ہورہا ہے اور اسکی واحد وجہ نوجوانوں میں تربیت کا فقدان ہے۔وہ تربیت جس کو ماں کی گود سے گور تک لازم قرار دیا گیا، اب ماں کی گود اس تربیت سے عاری ہے۔

کیا نصابی کتابوں سے ہٹ کر اساتذہ کی رہنمائی ہمیں میسر ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔اسی تربیت کا فقدان انسان کو اخلاقی گراو¿ٹ کے پاتال میں دھکیل دیتا ہے اور پھر معاشرے میں ہر قسم کی برائی جنم لیتی ہے۔ ماں باپ کو روزی کمانے سے فرصت نہیں ہے۔

وہ بچوں کے ہاتھ میں اب موبائل فون پکڑا دیتے ہیں۔ اساتذہ کی تگ و دو سلیبس ختم کرنے تک ہے۔ تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔سیاستدان بھی معاشرتی بگاڑ کے لئے ذمہ دار ہیں ۔

ووٹ بنک کی لالچ میں رائے دہندگان میں ذات پات ،لسان ، رنگ وروپ اورمذہب لکھیر کھینچ دی جاتی اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عوامی نمائندے سب کا حق ہے ۔اس حقیقت سے قطعی طور انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ،عوام کی صحیح نمائندگی کا حق سب کو ہونا چاہیے ،لیکن اس کا فیصلہ اگر عوام کو ہی کرنے دیا جائے تو بہتر ۔اگر آپ عوامی نمائندوں کو لکیر کھینچ کر منقسم کریں گے ،تو نہ صحیح نمائندگی ہوگی اور نہ ہی وہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں ،جن کا دعویٰ اور وعدہ عوامی منڈیٹ لینے کے وقت کیا جاتا ہے ۔

کوئی بھی شخص اپنی شخصیت لے کر پیدا نہیں ہوتا ہے۔ وہ پیدا ہونے کے بعد اپنے ماحول سے سیکھ کر اپنی شخصیت ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔ تربیت کا یہ درسگاہ ماں کا گود بھی ہوسکتی ہے اور اسکا تعلیمی ادارہ بھی۔

ہمیں اپنے سماجی بگاڑ کو روکنے کیلئے بچوں کی تربیت پر پوری توجہ دینا ہوگی۔ اپنے گھر میں پلنے والے بچے کی تربیت کا انتظام کریں تاکہ آنے والی نسل اس اخلاقی دیوالیہ پن میں پسنے سے بچ سکے۔

معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو روکنے کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ذمہ دارانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.