سپریم کورٹ 10 مئی کو ‘غداری قانون کی قانونی حیثیت پر سماعت کرے گی

سپریم کورٹ 10 مئی کو ‘غداری قانون کی قانونی حیثیت پر سماعت کرے گی

نئی دہلی، 5 مئی: سپریم کورٹ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے(بغاوت) کے جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت جمعرات کو ایک بار پھر ملتوی کر دی سپریم کورٹ نے سماعت کی اگلی تاریخ 10 مئی مقرر کی ہے چیف جسٹس این  وی رمنا کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے مرکزی حکومت کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی درخواست پر اگلے منگل کو اس معاملے کی سماعت کے لیے فہرست بنانے کی ہدایت دی۔چیف جسٹس نے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا کہ معاملہ ملتوی نہیں کیا جائے گا۔اس سے قبل حکومت نے دو دن اور پھر اتوار کو ایک دن کا اضافی وقت دینے کی درخواست کی تھی۔27 اپریل کو سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی خصوصی بنچ نے حکومت سے 30 اپریل تک اپنا جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ بنچ نے اس معاملے کو نمٹانے کے لیے 5 مئی کو سماعت کی تاریخ بھی مقرر کی اور واضح طور پر کہا کہ ایک سال سے زیر التوا معاملے میں حکم امتناعی کی کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔حکومت نے اتوار کو ایک نئی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جواب تیار ہے، لیکن متعلقہ حکام سے منظوری حاصل کرنا باقی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں کچھ اضافی وقت درکار ہے۔اسی طرح 27 اپریل کو حکومت نے کہا تھا کہ جواب تیار ہے لیکن اسے حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔عدالت عظمیٰ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ 30 اپریل تک اپنا جواب داخل کرے تاکہ جلد از جلد نمٹا جائے۔چیف جسٹس رمنا نے پچھلی سماعت پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد انہیں ہدایت دی کہ وہ اس قانون پر مرکز کی جانب سے جواب داخل کریں، جس میں غداری کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر عمر قید کی سزا ہے۔

27 اپریل کو سپریم کورٹ کی تین رکنی خصوصی بنچ کے سامنے مسٹر مہتا نے اپنی طرف سے کہا تھا کہ درخواستوں کا جواب تقریباً تیار ہے۔ اسے حتمی شکل دینے کے لیے دو دن درکار ہیں۔ اس پر بنچ نے کہا تھا کہ اسے ہفتے کے آخر تک اپنا جواب داخل کرنا چاہئے۔
غداری قانون کے خلاف درخواستیں میسور میں مقیم میجر جنرل (ریٹائرڈ) ایس جی وومبٹکرے، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اور دیگر نے دائر کی تھیں۔سپریم کورٹ نے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے (15 جولائی 2021 کو) بغاوت کے قانون کے غلط استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھااور پوچھاتھا کہ آزادی کے تقریباً 75 سال بعد بھی اس قانون کی کیا ضرورت ہے؟سپریم کورٹ نے ’’کیدار ناتھ سنگھ‘‘ کیس (1962) میں خاص طور پر واضح کیا تھا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ124 اےکے تحت صرف وہی کارروائیاں، جن میں تشدد یا تشدد پر اکسانے والے عناصر شامل ہوتے ہیں، بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں۔عدالت عظمیٰ میں دائر درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اےآئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت بیان کردہ آزادی اظہار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.