سری نگر میں پانچویں روز بھی معمولات زندگی متاثر، وادی کے باقی اضلاع میں معمولات پٹری پر

سری نگر میں پانچویں روز بھی معمولات زندگی متاثر، وادی کے باقی اضلاع میں معمولات پٹری پر

سری نگر//حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین سید علی گیلانی کے یکم ستمبر کو انتقال کے پیش نظر سری نگر میں پیر کو مسلسل پانچویں روز بھی بندشوں اور ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر رہے۔

ایک نامعلوم گروپ کی مبینہ ‘عیدگاہ چلو’ کال کے پیش نظر حکام نے عید گاہ کی طرف جانے والے راستوں کو مسدود کر دیا تھا اورعلاقے میں سیکورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔عید گاہ کے گرد و پیش کے حالات کی نگرانی کے لئے ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

ادھر وادی میں جہاں موبائل انٹرنیٹ خدمات پیر کو مسلسل پانچویں روز بھی معطل رہیں وہیں کشمیر ٹرین سروس بھی جمعرات سے تواتر کے ساتھ معطل ہے۔

یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے شہر کے بعض علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ عید گاہ کی طرف جانے والی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے اور سیکورٹی کی مزید نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر گلی کوچوں کو بند کر دیا گیا ہے اور لوگوں کی نقل و حمل کو محدود کرنے کے لئے سڑکوں پر خاردار تار بھی بچھا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرد و پیش کے حالات کی نگرانی کے لئے ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔موصوف نے بتایا کہ شہر کے دیگر حصوں بشمول تجارتی مرکز لالچوک کے بازاروں میں کچھ دکانیں کھلی تو کچھ بند تھیں جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی جزوی نقل وحمل جاری تھی۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے بعض علاقوں میں صبح کے وقت بازار بند تھے تاہم بعد میں رفتہ رفتہ دکان کھلنے لگے۔

شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور جو سید علی گیلانی کا آبائی وطن ہے، میں پیر کے روز معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری رہے۔
اطلاعات کے مطابق قصبے کے بازار کھلے رہے جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بھی جاری رہی۔

شمالی کشمیر کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات میں بھی معمولات زندگی بطور مجموعی بحال ہونے کی اطلاعات ہیں۔جنوبی کشمیر کے بھی سبھی اضلاع میں پیر کے روز تجارتی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری رہی۔

وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں اگرچہ پیر کی صبح بازار بند رہے تاہم بعد میں دکانیں کھل گئیں اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل جاری رہی۔بتا دیں کہ حیدرپورہ میں واقع سید علی گیلانی کی رہائش گاہ اور جامع مسجد کے احاطے میں ان قبر پر سیکورٹی پہرہ ہنوز جاری ہے۔

دریں اثنا وادی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ اور ریل خدمات پیر کو پانچویں روز بھی معطل رہیں۔ایک ریلوے عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں پیر کو بھی ریل سروس بحال نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریل سروس کو احتیاطی طور پر بند کردیا گیا ہے۔

حکام نے اگرچہ وادی میں موبائل کالنگ خدمات کو بحال کر دیا ہے لیکن موبائل انٹرنیٹ خدمات پیر کو پانچویں روز بھی مسلسل بند رہیں جس سے طلبہ، تجار و ویگر پیشہ ور لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

طلبہ کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ ہماری تعلیم پہلے ہی از حد متاثر ہوئی ہے اب ہم انٹرنیٹ کی وساطت سے کلاسز لے کر کسی حد تک بھرپائی کر رہے تھے لیکن اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔

ایک طالب علم نے کہا کہ مختلف امتحانات ہونے والے ہیں جن کی تیاریاں گذشتہ پانچ دنوں سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔تجار کی بھی شکایت ہے کہ موبائل انٹرنیٹ پر پابندی سے ان کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں کافی نقصان ہو رہا ہے۔


یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.