سری نگر،: کرائم برانچ کشمیر (سی بی کے) کی اقتصادی جرائم ونگ نے ایک بڑے بد عنوانی معاملے میں 108 ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
ونگ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرائم برانچ نے رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کے دفعات 409،420،467،468،471،201 اور 120 – بی اور انسداد بد عنوانی کی دفعہ5 (2) کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 25/2018 میں بد عنوانی کے ایک بڑے مقدمے میں 108 ملزموں کے خلاف عدالت خصوصی جج، انسداد بد عنوانی بارہمولہ میں ایک چارج شیٹ داخل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ الیکٹرک ڈویژن سمبل میں سرکاری فنڈز کے غبن اور غیر قانونی تقرریوں سے متعلق ہے۔
بیان کے مطابق ملزموں میں الیکٹرک ڈویژن سمبل میں تعینات 15 ایگزیکیٹو انجینئرز، 6 اسسٹنٹ کائونٹس آفسر،1 اکائونٹس اسسٹنٹ، 6 ہیڈ اسسٹنٹ، 4 سینئر اسسٹنٹ (جن میں مرکزی ملزم مشتاق احمد ملک ولد ثنا واللہ ملک ساکن ار گام بانڈی پورہ شامل ہے)، 4 جونیئر اسسٹنٹ اور 1 آرڈرلی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ چارج شیٹ میں جموں وکشمیر بینک برانچ سمبل سونہ واری کے 25 افسران و اہلکار اور 46 جعلی ملازمین کے نام بھی شامل ہیں جنہیں غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ یہ مقدمہ قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر درج کیا گیا جن کے مطابق ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (ڈی ڈی او) نے محکمے اور بینک کے دیگر اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے سرکاری کھاتوں سے کروڑوں روپیے ناجائز طور پر نکلوائے اور جعلی تقرریوں کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران سرکاری فنڈز کے بڑے پیمانے پر ڈائورژن اور دیگر سنگین جرائم کا انکشاف ہوا۔
ان کا کہنا ہے تفتیش کے دوران مرکزی ملزم مشتاق احمد ملک سے کروڑوں بر آمد کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے۔ مزید یہ بھی سامنے آیا کہ خطیر رقوم مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کی گئیں جن میں بچت کھاتے اور مدتی جمع (ٹرم ڈیپوزٹس) شامل ہیں۔ نیز ان پر حاصل ہونے والا سود بھی ریکارڈ میں آیا۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے تمام ملزموں کے خلاف استغاثہ کی منظوری دی جا چکی ہے جس کے بعد مجاز عدالت میں کارروائی کے لئے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔





