ایثار و قربانی سے عبارت خلیلی ؑسیرت

ایثار و قربانی سے عبارت خلیلی ؑسیرت

ہمیں بندگی میں اخلاص اور اعمال میں للہیت پیدا کرنے کا پیام عام دیتی ہے: صدر جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر

سرینگر/برادرانِ اسلام ! عید قربان کی آمد آمد ہے اور چہار درانگ عالم میں اسلامیانِ دنیا اسوہ ¿ خلیلی کی یادیں تازہ کررہے ہیں۔ جہاں ہر سو قربانی کی تیاریاں ہورہی ہیں وہاں وہ اِس بطل جلیل کی مبارک زندگی کے سبھی گوشوں کو اُجاگر کرتے ہوئے راہِ حق میں اُن کی ثبات قدمی ، ہر محبت پربس اللہ کی محبت کا غلبہ ، عزم و ارادہ کی زبردست قوت، صبرو رضا، ایثار و قربانی اور راہِ دعوت میں مشکلات کے پہاڑ عبور کرتے ہوئے اپنے مدعو کو بہ اندازِ شفقت و محبت دعوت دین دینے کا عمل ہر خشکی و تری میں خاص موضوعات ہیں اپنے مولا کی رضا کے حصول کے لئے ایسے مصائب و شدائد کو سہا اور برداشت کیا کہ پہاڑ بھی پانی ہوجائیں ۔

اس ساری مبارک زندگی کا ماحصل یہی ہے کہ اللہ کی اِس زمین پر بس توحید کا ڈنکا بجے انسانیت پھلے پھولے ،شرک کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ دعوت کا فریضہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی بہ اندازِ احسن انجام دیا جائے یہی کام جمعیت اہلحدیث جموںو کشمیر اپنے وجود کے روز اول سے کررہی ہے اِس کے سینکڑوں مراکز عبادت اور بے شمار مدارسِ دینی و عصری اسی امر کی انجام دہی میں مست و محو ہیں۔ اس کے فلاحی ، رفاہی، طبی اور دیگر سبھی ادارے کسی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اِن باتوں کااظہار صدر جمعیت اہلحدیث جموںو کشمیر پروفیسر غلام محمد بٹ المدنی نے ملت اسلامیہ کے نام اپنے عید پیغام میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرینگر اور کارہامہ بارہمولہ میں تعمیر کئے جارہے ہسپتال بھی برملا اِسی حقیقت کا اظہار ہیں کہ جمعیت کو انسانی عقیدے کی بہتر صحت کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کی تندرستی کی فکر بھی کس قدر دامن گیر ہے۔ ان سارے منصوبوں کو عملانے میں ہمیں ملت اسلامیہ کشمیر کا بالعموم اور جمعیت سے وابستہ ہر پیر و جواں کا باالخصوص جو بہر نوع تعاون حاصل ہوتا آیا ہے ۔ اس کے لئے ہم درگاہ ربانی میں سراپا شکر و امتنان ہیں۔ اِدھر یہ سب کام ہورہاہے اور اُدھر ہماری انسانیت ایک عرصہ سے کرونائی شدتوں کی شکار ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ جمعیت نے اِس حوالہ سے پہلے سے ایک واضح موقف اپنایا ہے۔

جسے ہر کس و ناکس نے سراہا ہے اورسنہ 2019 میں اس وباءکے آغاز سے لے کر تادم تحریر اس کی انسانیت کے حوالہ سے خدمات بھی روز ِ روشن کی طرح عیاں ہےں۔ فی الوقت پھرمیری یہی گذارش ہے کہ حزم واحتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے حفظان صحت کے اصول اپنائے جائیں اور طبی مشاورت پر جی جان سے عمل ہوساتھ میں بارگاہِ ربانی میں بہ چشم نم اِس وبا کے خاتمے کے لئے دعاو¿ں کا سلسلہ جاری رہے۔ واقعی دعائیں دوائے اکسیر ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائیے۔یہ بھی یاد رہے کہ جن لوگوں کو قربانی کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ،قربانی کے بعد ماحول کو صاف و شستہ رکھنے کے لئے قربانی جانور کی آلودگیوں ،فضلات اور آلائشوں کو سڑکوں پر ڈالنے سے اجنتاب کرتے ہوئے اچھے انداز میں مخصوص جگہوں پر اسے ٹھکانے لگانے کے اقدامات کریں۔

یہ بھی گذارش کرتا چلوں کہ عید سنجیدگی، سادگی اور متانت سے منائےں اسراف و تبذیر سے اجتناب کیجئے اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں بیواو¿ں ، یتامیٰ، مساکین ، معذروں ، ضعیفوں ، پریشاں حالوں اور حالات و مصائب کے ماروں کی ایک بڑی تعداد نظر آئے گی ان کی دل جوئی اور اعانت حتی الوسع فرمائیے۔ سبھی فرزندانِ اسلام کو عید قربانی کے موقع پر ہدیہ  تبریک پیش کرتا ہوں اور ساتھ میں یہ اپیل بھی ہے کہ جمعیت کے سبھی تعمیری و تعلیمی منصوبوں کی تکمیل کے لئے وسعت قلبی سے معاونت فرمائیے اللہ تعالیٰ بہتر اجر سے نوازے گا۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.