اگر میرواعظ کو واقعی رہا کیا گیا ہے تو وہ آنے والے جمعے کو تاریخی جامع مسجد میں خطبہ دیں گے: متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر

اگر میرواعظ کو واقعی رہا کیا گیا ہے تو وہ آنے والے جمعے کو تاریخی جامع مسجد میں خطبہ دیں گے: متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر

سری نگر، 3 مارچ :جموں و کشمیر میں درجنوں مذہبی، سماجی اور ملی تنظیموں پر مشتمل اتحاد ‘متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر’ نے فیصلہ لیا ہے کہ اگر حکومت نے واقعی مجلس کے امیر اعلیٰ و سرپرست میرواعظ مولوی عمر فاروق کی خانہ نظر بندی ختم کی ہے تو وہ آنے والے جمعے کو سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں اپنا معمول کا خطبہ بحال کریں گے۔
اس فیصلے کی اطلاع متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر کے ایک ترجمان نے یو این آئی اردو کو دی۔ تاہم موصوف کے مطابق میرواعظ کی نگین رہائش گاہ کے باہر پولیس کی گاڑی ہنوز کھڑی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی خانہ نظر بندی ختم نہیں کی گئی ہے۔
اخبار ‘دی ہندو’ نے عدم شناخت سینئر عہدیدار کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ میرواعظ عمر فاروق، جو حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین بھی ہیں، کی خانہ نظر بندی ختم کی گئی ہے۔
پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس رپورٹ پر اپنا ردعمل اپنی ایک ٹوئٹ میں ظاہر کرتے ہوئے لکھا: ‘میرواعظ کی بلاجواز حراست سے رہائی پر خوش ہوں۔ میں امید کرتی ہوں کہ جموں و کشمیر اور دیگر ریاستوں میں بند سینکڑوں کشمیریوں کو بھی جلد رہا کیا جائے گا۔ یہ صحیح وقت ہے کہ ان کو ان کے خاندانوں سے ملایا جائے’۔
بتادیں کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق پانچ اگست 2019 سے مسلسل نظربند ہیں اور ان کی جانب سے بیانات سامنے آنے کا سلسلہ بھی تب سے معطل ہے۔
متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر کے ترجمان نے یو این آئی اردو کو بتایا: ‘میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ میرواعظ صاحب کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ہٹائی گئی ہیں لیکن ان کے گھر کے باہر پولیس کی گاڑی اسی طرح کھڑی ہے جیسے پچھلے زائد از ڈیڑھ سال سے کھڑی تھی’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘آج متحدہ مجسل علما کا ایک بہت بڑا اجلاس تھا جس میں ہم نے فیصلہ لیا ہے اگر میرواعظ صاحب کی خانہ نظر بندی ختم کی گئی ہے تو وہ آنے والے جمعے کو جامع مسجد میں اپنا معمول کا خطبہ بحال کریں گے۔ شب معراج، شب برات اور شب قدر کی تقریبات آ رہی ہیں وہ اپنی معمول کی دینی سرگرمیاں بحال کریں گے’۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا میرواعظ نے متحدہ مجلس علما کے اجلاس کو بذریعہ ٹیلی فون خطاب کیا تو ان کا کہنا تھا: ‘ہم نے پہلے ہی طے کیا تھا کہ میرواعظ صاحب علما کے اجلاس سے خطاب نہیں کریں گے کیونکہ وہ نظر بند ہیں’۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میرواعظ عمر فاروق کو باہر نکل کر سیاست کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا: ‘آج پھر ایک موقع ہے آگے چلنے کا۔ میں خاص طور پر میرواعظ صاحب سے کہوں گا کہ ان کو باہر نکل کر سیاست کرنی چاہیے۔ وہ مذہبی رہنما ہیں ہی لیکن اگر سیاست کرنی ہے تو باہر نکلنا ہی چاہیے۔ میں ہمیشہ سے ہی اس کے حق میں رہا ہوں کہ حریت کانفرنس سیاست کرے’۔
دریں اثنا یہاں جاری ایک بیان کے مطابق متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر کے سرکردہ اراکین کا بدھ کو تاریخی میر واعظ منزل راجوری کدل سری نگر میں ایک اہم اجلاس اگست 2019 سے مجلس کے بانی چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کے تناظر میں منعقد ہوا۔
بیان کے مطابق اجلاس کے تمام شرکاء نے اس امر پر انتہائی فکر و تشویش کا اظہار کیا کہ میر واعظ کی مسلسل نظربندی کی وجہ سے جموں و کشمیر کے سب سے بڑے مذہبی اور روحانی مرکز جامع مسجد سری نگر کے منبر و محراب گذشتہ 82 جمعہ سے قال اللہ وقال الرسول کی دعوت و تبلیغ کے حوالے سے خاموش رکھا گیا ہے جس سے نہ صرف مجلس علما کے جملہ اراکین بلکہ عوام الناس کے دینی اور مذہبی جذبات بری طرح مجروح ہو رہے ہیں کیونکہ عوام الناس جامع مسجد کے منبر و محراب سے گہری مذہبی اور جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں حکومت ہند کے وزیر مملکت برائے امور داخلہ کے حالیہ بیان کے باوجود جموں و کشمیر میں کوئی بھی گھر میں نظربند نہیں ہے، اس کے باوجود میرواعظ کو گھر میں نظربند رکھا گیا ہے اور انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
اجلاس میں شامل علما اور مشائخ نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ مسلمانوں اور عالم اسلام کے عظیم ترین خیر و برکت اور حرمت والے مہینے رجب المرجب جو معراج النبی (ص) کا مہینہ ہے اور اسی کے ساتھ ماہ شعبان المعظم جو شب برات کا مہینہ ہے اور پھر مقدس ماہ رمضان المبارک جو نزول قرآن کریم اور انتہائی خیر و برکت کا حامل مہینہ ہے کی آمد آمد ہے اور ان ایام میں میرواعظ کشمیر اپنے اسلاف اور بزرگوں کی روایات کے مطابق عوام الناس کی رہنمائی کے لئے جامع مسجد سمیت مختلف علاقوں میں دین اسلام کی عظیم تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کے لئے جا بجا دینی مجالس آراستہ کرتے آئے ہیں لہٰذا میرواعظ پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ موصوف حسب سابق اپنی منصبی، قومی اور ملی ذمہ داریوں کو ادا کرسکیں۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ گذشتہ رات سے میڈیا رپورٹوں کے مطابق، سرکاری عہدیداروں نے کہا ہے کہ میر واعظ پر لگے قدغنوں کو ختم کر دیا گیا ہے چنانچہ اجلاس کے موقر ممبران نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکام میرواعظ کی نظر بندی کے حوالے سے اپنے بیانات کا احترام کریں گے اور موصوف کی نظر بندی فوری طور پر ختم کریں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published.